کن کاموں میں اطاعت لازِم ہے ؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہعَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب ، حبِیْبِ لبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاحکم ماننا اِطاعَتِ مُصْطَفٰے کہلاتاہے ۔ اطاعت میں ہروہ کام شامل ہے جن سے بچنے کااورجنہیں کرنے کاحکم ہے ۔ جس طرح نماز پڑھنا ، زکوٰۃ دینا ، روزہ رکھنااوردیگر نیک کام ضروری ہیں ، اسی طرح جُھوٹ ، غیبت ، چُغلی ، موسیقی وغیرہ گُناہوں سے اِجْتناب بھی لازِم ہے ۔ مگرافسوس!صَدافسوس!آج مُسلمانوں نے دِین سے دُوری کے باعثاللہ عَزَّ وَجَلَّاوراس کے رسُول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اِطاعت وفرمانبرداری کوچھوڑدیا ، شاید اسی وجہ سے مُعاشرے میں گُناہ عام ہوتے جارہے ہیں ۔ جس طرف نظراُٹھائیے بے عملی ، بے راہ روی اورسُنَّتوں کی خِلاف وَرزی کے دل سَوز نَظارے ہیں ۔ نمازیں چھوڑنا ، گالیاں دینا ، تہمتیں لگانا ، بدگمانیاں کرنا ، غیبتیں کرنا ، لوگوں کے عیب جاننے کی جستجومیں رہنا ، معلوم ہونے پرعیبوں کواُچھالنا ، بات بات پہ جھوٹ بولنا ، جھوٹے وعدے کرنا ، کسی کا مال ناحق کھانا ، فلمیں ڈرامے ، گانے باجوں کے نشے میں مخموررہنا ، سرِعام سُود ورِشوت کا لَیْن دَیْن کرنا ، ماں باپ کی نافرمانی کرنا ، غُرُور وتکبر ، حَسَدورِیا کاری اوربُغض وکِیْنہ جیسے بے شُمارگُناہ عام ہیں ۔ یاد رکھئے !ایک دن مَوْت ہمارارشتَۂ حَیات مُنْقَطع کرکے ہمیں آراستہ وپیراستہ کمروں کے نَرْم وآرام دِہ گدیلوں سے اُٹھاکرقبرکی مَٹّی پرسُلادے گی ، پھرپچھتانے سے کچھ ہاتھ نہ آئے گا ۔ لہٰذاان ساعتوں کوغنیمت جانتے ہوئے گُناہوں سے سچی تَوْبہ کیجئے !اور نیکیوں میں وَقْت گُزارئیے ۔ آئیے ! اِطاعَتِ مُصطفٰے کا جَذبہ پیدا کرنے کی سچی نِیَّت سے چندفرامین مصطفٰے سنتے ہیں :