Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
281 - 541
کے لئے چارہ ماہ دس دن ہے ۔ عموماًدیکھاجاتاہے کہ آج اگرکسی گھر میں میّت ہوجائے تو  افسوس صَد افسوس !عِلمِ دین سے دُوری کے سبب بہت سے غیر شرعی کا موں کا اِرْتکاب کیا جاتاہے ، جیسے نوحہ یعنی میِّت کی خوبیاں خوب بڑھاچڑھاکربیان کرکے آواز سے رویاجاتاہے جسے بین کرنابھی کہتے ، یہ بالاجماع حرام ہے ۔ یُوہیں واوَیلا ، وَامُصِیْبَتَاہ ( یعنی ہائے مُصیبت) کہہ کرچلّانا ، گَرِبیان پھاڑنا ، منہ نوچنا ، بال کھولنا ، سر پر خاک ڈالنا ، سینہ کُوٹنا ، ران پر ہاتھ مارنایہ سب جاہِلیَّت کے کام اورحرام ہیں ۔ (1) ہوناتویہ چاہئے کہ ایسے موقعے پرصبرسے کام لیتے ہوئے رضائے الٰہی پررضامندی کااظہارکیاجائے ۔ مگرافسوس! گھروالے اور آس پڑوس کے لوگ بالخصوص خواتین زورزور سے روتی چِلّاتی ہیں ۔ اگرکوئی صَبْر و ضَبْط سے کام لیتے ہوئے ان کا ساتھ نہ دے تو اس پر طَعْن وتَشْنِیْع کے تِیر برساتے ہوئے اس طرح کی گفتگوکی جاتی ہے کہ اسے دیکھو کیسی سخت دل ہے  ’’ جَوان  ‘‘ میّت پر بھی آنکھوں میں ایک آنسو نہیں آیا ۔  یُوں ایک مُسلمان کے بارے میں بَد گمانی اوراس کی دِل آزاری کاگُناہ بھی سرلیتی ہیں  ۔ 
 	 یاد رکھئے !بَتقاضائے بَشریَّت وفات پرغمگین ہوجانا ، چہرے سے غم کاظاہر ہونا ، اسی طرح بِلاآواز رونا وغیرہ منع نہیں ہے ۔  ہاں!ایسے میں شریْعَتِ مطہرہ کی خلاف وَرزی منع ہے ۔ اللہعَزَّ  وَجَلَّہمیں شریعت کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی آخرت بہتربنانے کی توفیق عطافرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد



________________________________
1 -    الجوهرة النیرة ، کتاب الصلوة ، باب الجنائز ، ص ۱۳۹
	فتاوی هندیة ، کتاب الصلوة ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز ، ۱ /  ۱۶۷