زمانَۂ جاہِلیَّت میں اگرچہ طویل عرصے سے رائج تھی لیکن جبرَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے منع فرمادیاتواس حکم پرصحابیاترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّکاعمل مثالی تھا ۔ چُنانچہ
صحابیات اورحکم رسول پرعمل :
اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنازینب بنْتِ جحشرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے بھائی کااِنتقال ہوا توچوتھے روز ہی انہوں نے خوشبومنگاواکر لگائی اورفرمایا : بخدا!مجھے اس کی بالکل حاجت نہ تھی فقط حکْمِ رسول پرعمل مقصودتھاوہ یہ کہ میں نے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکومنبر پرارشاد فرماتے سنا : شوہرکے علاوہ کسی عزیزرشتے دارکے مرنے پرمسلمان عورت کوتین دن سے زیادہ سوگ جائزنہیں ۔ (1)
اسی طرح جب اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنااُمِّ حبیبہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے والدکا انتقال ہواتواُنہوں نے بھی تین دن کے بعداپنے رُخساروں پرخُوشبو ملی اورفرمایا : مجھے اس کی ضرورت نہ تھی صرف حکم رسول کی تعمیل مقصودتھی ۔ (2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سوگ کی شرعی حیثیت :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس واقِعے سے جہاں یہ معلوم ہواکہ صحابیاترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّاِطاعَتِ رسول کے جذبے سے سرشاراوردل وجاں سے اللہعَزَّ وَجَلَّاوراس کے پیارے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اِطاعت گُزارتھیں ، وہیں یہ بھی معلوم ہواکہ اسلام میں قریبی رشتے دارکے مرنے پرسوگ کی مُدّت تین دن اورشوہرکے انتقال پرعورت
________________________________
1 - ابو داود ، کتاب الطلاق ، باب احدادالمتوفی عنھازوجھا ، ۲ / ۴۲۲ ، حدیث : ۲۲۹۹
2 - ابو داود ، کتاب الطلاق ، باب احدادالمتوفی عنھازوجھا ، ۲ / ۴۲۲ ، حدیث : ۲۲۹۹