Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
279 - 541
	میٹھے میٹھے اسلامی  بھائیو!دیکھاآپ نے کہ  صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمیں اِطاعَتِ رسُول کاکیساجَذبہ ہواکرتاتھاکہ شادی جیسے اہم مُعاملے میں بھی حیلہ بہانہ کئے بغیرپیغام مصطفٰے سنتے ہی اپنی لڑکی کانکاح کردیا ۔ لہٰذااگرہم چاہتے ہیں کہ ہماری دنیاوآخرت بہترہوتَوہمیں چاہئے کہ تمام ترمعاملات میں اِطاعَتِ مصطفٰے کوپیشِ نظررکھیں ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اطاعت وفرمانبرداری کادرس دیتے ہوئے صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے زمانَۂ جاہلیت کی وہ تمام فضول رسمیں ختم فرمادیں جن پرعرصہ درازسے عمل جاری تھا ۔ کاش!صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے صدقے ہمیں بھی اطاعَتِ مصطفٰے کاجذبہ نصیب ہوجائے اورزبانی جمع خرچ سے نکل کرکاش!ہم عملی طورپرسچے پکے عاشِقِ رسول بن جائیں ۔ 
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اسلامی تعلیمات اوردورِجاہلیت کی غلط رسمیں : 
منقول ہے کہ دَورِجاہِلیَّت میں کسی کے مرجانے پر کئی دنوں تک نَوحہ کرنا ، سوگ مَنانا عام معمول تھا ۔ یہاں تک کہ اِسلام سے پہلے عرب میں بیوہ عورت شوہرکے اِنتقال کے بعدایک سال تک ٹوٹے پھوٹے مکان ، بُرے لباس میں ملبوس تمام گھروالوں سے علیحدہ رہتی(1) یوں ایک سال تک سوگ کیاکرتی تھی ۔ لیکن اسلام کے بعدتاجدارِانبیا ، سَروَرِ ہردوسراصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے شوہرکے علاوہ دیگررِشتہ داروں کے ( اِنتقال پر) سوگ کے لئے تین دن جبکہ شوہرکے انتقال پربیوی( غیر حاملہ بیوہ) کے لئے چارماہ دس دن سوگ کی عدت مقررفرمائی ۔ (2) دیگررشتے داروں کے مرنے پرتین دن سے زیادہ سوگ کی رَسم



________________________________
1 -   مراٰۃ المناجیح ، ۵ /  ۱۵۱
2 -    ردالمحتار ، کتاب الطلاق ، فصل فی الحداد ، ۵  / ۲۲۳