میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھاآپ نے کہ صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمیں اِطاعَتِ رسُول کاکیساجَذبہ ہواکرتاتھاکہ شادی جیسے اہم مُعاملے میں بھی حیلہ بہانہ کئے بغیرپیغام مصطفٰے سنتے ہی اپنی لڑکی کانکاح کردیا ۔ لہٰذااگرہم چاہتے ہیں کہ ہماری دنیاوآخرت بہترہوتَوہمیں چاہئے کہ تمام ترمعاملات میں اِطاعَتِ مصطفٰے کوپیشِ نظررکھیں ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اطاعت وفرمانبرداری کادرس دیتے ہوئے صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے زمانَۂ جاہلیت کی وہ تمام فضول رسمیں ختم فرمادیں جن پرعرصہ درازسے عمل جاری تھا ۔ کاش!صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے صدقے ہمیں بھی اطاعَتِ مصطفٰے کاجذبہ نصیب ہوجائے اورزبانی جمع خرچ سے نکل کرکاش!ہم عملی طورپرسچے پکے عاشِقِ رسول بن جائیں ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اسلامی تعلیمات اوردورِجاہلیت کی غلط رسمیں :
منقول ہے کہ دَورِجاہِلیَّت میں کسی کے مرجانے پر کئی دنوں تک نَوحہ کرنا ، سوگ مَنانا عام معمول تھا ۔ یہاں تک کہ اِسلام سے پہلے عرب میں بیوہ عورت شوہرکے اِنتقال کے بعدایک سال تک ٹوٹے پھوٹے مکان ، بُرے لباس میں ملبوس تمام گھروالوں سے علیحدہ رہتی(1) یوں ایک سال تک سوگ کیاکرتی تھی ۔ لیکن اسلام کے بعدتاجدارِانبیا ، سَروَرِ ہردوسراصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے شوہرکے علاوہ دیگررِشتہ داروں کے ( اِنتقال پر) سوگ کے لئے تین دن جبکہ شوہرکے انتقال پربیوی( غیر حاملہ بیوہ) کے لئے چارماہ دس دن سوگ کی عدت مقررفرمائی ۔ (2) دیگررشتے داروں کے مرنے پرتین دن سے زیادہ سوگ کی رَسم
________________________________
1 - مراٰۃ المناجیح ، ۵ / ۱۵۱
2 - ردالمحتار ، کتاب الطلاق ، فصل فی الحداد ، ۵ / ۲۲۳