تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خِدْمت گُزاری کاشَرَف حاصل تھا ، ایک دن آپ نے مجھ سے اِرْشاد فرمایا : اے ربیعہ!تم شادی کیوں نہیں کرلیتے ؟میں نے عرض کی : یَارَسُوْلَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں شادی نہیں کرناچاہتاکیونکہ ایک تو میرے پاس اتنا مال واَسباب نہیں کہ عورت کی ضروریات پُوری کرسکوں اوردوسرایہ کہ مجھے یہ بات پسند نہیں کہ کوئی چیز مجھے آپ سے دُورکردے ۔ میرے اس جواب پرآپ نے خاموشی اختیارفرمائی ۔ کچھ عرصے بعدپھرارشادفرمایا : ربیعہ!تم شادی کیوں نہیں کرلیتے ؟میں نے پھروہی جواب دیاتوآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کچھ نہ فرمایا ۔ پھرمیں نے دل میں سوچاکہ اللہعَزَّ وَجَلَّکی قسم! رَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممجھ سے زیادہ جانتے ہیں کہ دنیاوآخرت میں میرے لئے بہتری کس میں ہے ۔ اللہعَزَّ وَجَلَّکی قسم!اب کی باراگرآپ نے شادی کے حوالے کچھ فرمایا تومیں کہہ دوں گاکہ ٹھیک ہے آپ جوچاہیں حکم فرمائیں ۔ جب تیسری بارآپ نے اِرْشاد فرمایا : ربیعہ!تم شادی کیوں نہیں کرلیتے ؟تومیں نے عرض کی : کیوں نہیں!آپ جوچاہیں حکم فرمائیں ۔ حضورنَبِیِّ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اَنْصارکے ایک قبیلے کانام لے کرارشاد فرمایا : ان کے پاس چلے جاؤاوران سے کہوکہ مجھے رَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تمہارے نام یہ پیغام دے کربھیجاہے کہ تم اپنے قبیلے کی فُلاں عورت سے میرا نکاح کردو ۔ چُنانچہ میں ان کے پاس گیااورآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاپیغام سُنایاتوانہوں نے بڑے پُرتَپاک طریقے سے میرااِسْتقبال کیااورکہنے لگے کہرَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے قاصدکوخالی نہ لوٹایاجائے ۔ لہٰذاانہوں نے شفقت ومہربانی سے پیش آتے ہوئے اس عورت سے میرا نکاح کردیا ۔ (1)
________________________________
1 - مسند احمد ، مسند المدنیین ، ۵ / ۵۶۹ ، حدیث : ۱۶۵۷۷