لیکن حُضُورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی اِطاعت تین چیزوں میں کی جائے گی : ( ۱) …آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کیے گئے کاموں میں ، ( ۲) …بیان کردہ فَرامین میں اور( ۳) …آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے سامنے جوکام ہوااورحُضُورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے منع نہ فرمایا ، اس میں بھی اِطاعت ہوگی ۔ یعنی مُصْطَفٰے کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جوفرمادیا ، اس کو مانو ، حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے جوکچھ خُودکرکے دکھایااسے بھی مانواورجوکسی کوکرتے ہوئے دیکھ کر منع نہ فرمایااسے مانو ۔ (1)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہعَزَّ وَجَلَّنے انسانوں کوزِندگی گُزارنے اوردُنیاوآخرت میں کامیابی کے لئے اپنی اوراپنے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اِطاعت وفرمانبرداری کاحکم دیاہے اورساتھ ہی یہ اِخْتیاربھی دیاہے کہ اَحکامِ اِلٰہی پرعمل کرتے ہوئے اس کے مُطیع وفرمانبرار بندے بن کرچاہیں توجنَّت کی اَبَدی نعمتوں سے لُطْف اُٹھائیں یااس کی نافرمانی کے مُرتکب ہوکرجہنَّم کے حَقْدارٹھہریں ۔ لہٰذادُنیاوآخرت میں سُرخروہونے کے لئے رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اسوۂ حسنہ پرعمل کرنے میں ہی عافیت ہے کیونکہ آپ کی مُبارَک زِندگی ہمارے لئے بہترین نُمُونہ ہے ۔ چُنانچہ
زندگی گزارنے کابہترین نمونہ :
پارہ21 ، سُوْرَۃُ الْاَحْزَاب ، آیت نمبر21میں اِرْشاد ہوتا ہے :
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ
ترجمۂ کنزالایمان : بے شک تمہیںرَسُوْلُاللہ
________________________________
1 - ماخوذازشانِ حبیب الرحمان ، ص۶۶