اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا رَسُولَ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا حَبِیْبَ اللہ
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا نَبِیَّ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا نُوْرَ اللہ
درود شریف کی فضیلت :
سرکارِمدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ جَنَّت نشان ہے : ’’ مَنْ صَلَّی عَلَیَّ فِیْ یَوْمٍ اَلْفَ مَرَّۃٍ لَمْ یَمُتْ حَتّٰی یَرٰی مَقْعَدَہٗ مِنَ الْجَنَّۃِیعنی جومجھ پردن بھرمیں ایک ہزارمرتبہ دُرُود شریف پڑھے گا ، وہ مرے گانہیں جب تک جنت میں اپنی جگہ نہ دیکھ لے ۔ ‘‘ (1)
وہ تو نِہایت سَسْتا سودا بیچ رہے ہیں جَنَّت کا ہم مُفلِس کیا مول چُکائیں اپنا ہاتھ ہی خالی ہے (2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سونے کی انگوٹھی نہ اُٹھائی :
حضرت سیِّدُناعبدُاللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتے ہیں کہرَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک شَخْص کے ہاتھ میں سونے کی اَنگوٹھی دیکھی تونکال کرپھینک دی اوراشادفرمایا : ’’ کیاتم میں سے کوئی یہ چاہتاہے کہ آگ کااَنگارااپنے ہاتھ میں رکھے ؟ ‘‘ جب آپ تشریف لے گئے تولوگوں نے اس سے کہا : انگوٹھی اُٹھالواور( بیچ کر) اس سے فائدہ اُٹھاؤ ۔ اس نے کہا : اللہعَزَّ وَجَلَّکی قسم!جسے رَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میرے ہاتھ سے
________________________________
1 - الترغیب فی فضائل الاعمال ، باب مختصر من الصلاة...الخ ، ص۱۴ ، حدیث : ۱۹
2 - حدائق بخشش ، ص۱۸۶