Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
255 - 541
 میلادُالنَّبی مَنانے کے آداب میں سے یہ ہے کہ تَمام غیرشَرعی کاموں سے اِجْتناب کیا جائے ، مثلاً گلی یاسڑک وغیرہ پر اِس طرح سَجاوٹ کرنا کہ جس سے گاڑی والوں اور پیدل چلنے والوں کوتکلیف کا سامنا کرنا پڑے ، ناجائز ہے ۔ چَراغاں دیکھنے کے لیے عورتوں کااَجنبی مَردوں کے درمیان  بے پردہ نکلنا نیز باپردہ عورتوں کا بھی مُروَّجہ انداز میں مَردوں میں اِخْتِلاط( یعنی خَلط مَلط ہونا) انتِہائی اَفْسوس ناک ہے ۔ نیز بجلی کی چوری بھی ناجائز ہے ، لہٰذااس سلسلے میں بجلی فَراہم کرنے والے اِدارے سے رابِطہ کرکے جائزذَرائِع سے چَراغاں کی ترکیب بنایئے ۔ جُلوسِ میلاد میں حتَّی الْامکان باوُضُو رہئے ، نَمازِ باجماعت کی پابندی کا خیال رکھئے ۔ 
	شیْخِ طریقت ، امیْرِاہلسنَّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے جَشنِ میلادمَنانے کے بارے میں اپنے ایک مکتوب میں کچھ اَہَم مدنی پُھول عطافرمائے ہیں ۔ آئیے !ہم بھی اس  مکتوبِ عطار  کو توجُّہ کے ساتھ سُنتے ہیں : 
مکتوبِ عطّار :
	بِسْم اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیم ط سگِ مدینہ محمدالیاس عطّارؔقادِری رضویعُفِیَ عَنْہُ کی جانب سے تمام عاشِقانِ رسول اسلامی بھائیوں / اسلامی بہنوں کی خِدمتوں میں جَشنِ وِلادَت کی خوشی میں لہراتے ہوئے سبزسبزپرچموں ، جگمگاتے بلبوں اورننھے ننھے قُمقُموں کوچومتاہوا ، جھومتاہواشہد سے بھی میٹھا مکّی مَدَنی سلام ، 
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اﷲِ وَبَرَکاتُہٗ 	  اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ عَلٰی کُلِ حَال  
تم بھی  کرکے  اُن کا  چرچا   اپنے  دِل  چمکاؤ
اُونچے میں اُونچا نبی کا جھنڈا گھر گھر میں لہراؤ