وَسَلَّمنے اِرْشادفرمایا : ’’ اِسی دن میری وِلادَت ہوئی اوراسی روز مجھ پروَحْی نازِ ل ہوئی ۔ ‘‘ (1)
یادرہے !حضورنَبیِّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وِلادَت پرخُوشی مَنَانے کاحکم قرآنِ کریم سے ثابت ہے ۔ چُنانچہ
پارہ11 ، سُورۂ یُونُس ، آیت نمبر58میں اِرْشاد ہوتاہے :
قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْاؕ-هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ(۵۸) ( پ۱۱ ، یونس : ۵۸)
ترجمۂ کنز الایمان : تم فرماؤاللہہی کے فَضْل اور اسی کی رَحْمَت اوراسی پرچاہیے کہ خُوشی کریں وہ اُن کے سب دَھن دولت سے بہتر ہے ۔
آیت مبارکہ کی تفسیر :
مشہورمُفَسِّرِقرآن ، حکیْمُ الاُمَّت مفتی احمدیارخان نعیمیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہا س آیتِ مُبارَکہ کے تحت اِرْشاد فرماتے ہیں : اے مَحْبُوب!لوگوں کویہ خُوشخبری دے کر انہیں یہ حکم بھی دوکہاللہ( عَزَّ وَجَلَّ) کے فَضْل اوراس کی رَحْمَت مِلنے پر خُوب خُوشیاں مَنَاؤ ۔ عُمُومی خُوشی توہر وَقْت مَنَاؤ ، خُصُوصی خُوشی اُن تاریخوں میں جِن میں یہ نِعْمَت آئی یعنی رَمَضَان ، خُصُوصاً شَبِ قَدراوررَبِیْعُ الْاَ وَّلخُصُوصاًبارہویں تاریخ میں کہ رَمَضَان میںاللہ( عَزَّ وَجَلَّ) کافَضْل قُرآن آیااوررَبِیْعُ الْاَ وَّ لمیںرَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْنیعنی محمدِ مُصطفٰے ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) پیداہوے ٔ ۔ یہ فَضْل ورَحْمَت یا اُن کی خُوشی مَنَانا تُمہارے دُنْیوی جَمْع کیے ہوے ٔ مال و مَتَاع ، رُوپیہ ، مَکان ، جائیداد ، جانور ، کھیتی باڑی بلکہ اَوْلاد وغیرہ سب سے بہترہے کہ اس خُوشی کا نَفْع شَخْصی نہیں بلکہ قَومی ہے ۔ وَقْتی نہیں بلکہ دائِمی ہے ۔ صرف دُنیا میں نہیں بلکہ دِین ودُنیا
________________________________
1 - مسلم ، کتاب الصیام ، باب استحباب صیام ثلاثة ایام...الخ ، ص۴۵۵ ، حدیث : ۲۷۵۰