کی والدہ ماجدہ کے بدنِ مُبارَک سے ایسانُورنکلناجس سے ”بصریٰ“کے محل روشن ہوگئے (1) ۔ یہ تمام واقعات اسی سلسلہ کی کَڑیاں ہیں جوحضورتاجدارِانبیا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تشریف آوری سے پہلے ہی”مُبَشِّرات“( خُوشخبری دینے والے ) بن کرعالَمِ کائنات کویہ خُوشخبری دینے لگے کہ
مُبارَک ہو وہ شہ پردے سے باہرآنے والا ہے
گدائی کو زمانہ جس کے دَر پر آنے والا ہے (2)
میلاد منانے کی برکتیں :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یادرکھئے !جَشنِ عیدمِیْلادُالنبی مَناناایک مُبارک کام ہے ، اس کے مَنانے والوں کواللہعَزَّ وَجَلَّکی طرف سے بے شُماردِیْنی ودُنیاوی فائدے نصیب ہوتے ہیں ۔ جیساکہ حضرت سیِّدُناامام قَسْطَلانیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ وِلادَتِ باسعادت کے ایّام میں مَحفلِ میلادکرنے کے خَواص( خُصُوصِیَّت) سے یہ اَمْرمُجرَّب( یعنی تَجرِبہ شُدہ بات) ہے کہ اس سال اَمْن و اَمان رہتاہے ۔ اللہعَزَّ وَجَلَّ اُس شخص پر رَحمت نازِل فرمائے !جس نے ماہِ وِلادَت کی راتوں کوعید بنا لیا ۔ ‘‘ (3) جَشنِ میلادمَنانے والے کودُنیاوی برکتوں کے ساتھ ساتھ جنَّت کی بشارت بھی ہے ۔ شیْخِمُحَقِّقحضرت شاہ عبدُالحَقّ مُحَدِّ ث دِہلویرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : سرکارِمَدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وِلادت کی رات خُوشی مَنانے والوں کی جَزایہ ہے کہ اللہعَزَّ وَجَلَّانہیں اپنے فَضل وکرم سے جَنَّاتُ النَّعِیممیں داخِل فرمائے گا ۔
________________________________
1 - شرح زرقانی ، ولادتہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وعجائب مارات ، ۱ / ۲۲۱
2 - ذوق نعت ، ص ۱۵۰
3 - مواهب اللدنیة ، ذکر رضاعہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، ۱ / ۷۸