مُذاکروں اورہفتہ وار سُنَّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی برکت سے اِنْ شَآءَاللہعَزَّ وَجَلَّ عِشقِ رسول کی دولت نصیب ہوگی ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میلاد منانا بھی تعظیْمِ مصطفٰے ہے :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہواکہ ایک مسلمان کے لیے تعظیْمِ مُصْطَفٰے کس قَدَر اَہَمیَّت کی حامل ہے کہ اس کے بغیر دَعْویٔ ایمان ہی بے کار ہے ۔ یاد رکھئے !جس طرح خُودتاجدارِاَنبیا ، سرورِہردوسَراصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذاتِ اَقْدَس کی تعظیم ضروری ہے ، اِسی طرح آپ سے نسبت رکھنے والے اَصْحاب واَزْواج ، آل واَوْلاداورتَبُّرکات کے ساتھ ساتھ آپ کے ذِکْرِ اَقْدس کی بھی تعظیم ضروری ہے ۔ یُوں توتمام ہی دِینی مَحافل میں ذِکْرِ مُصْطَفٰے کیاجاتاہے ، لیکن اِجتماعِ میلادمیں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاذِکْرِخَیْرخاص طورپرہوتا ہے ، آپ کی شان وعظمت کوبیان کیاجاتااورسیرتِ مُبارَکہ کے پیارے واقعات سُنائے جاتے ہیں ، لہٰذاجَشنِ عیدِمیلادُالنبی مَنانابھی تعظیْمِ مُصطفٰے ہی کی ایک صُورت ہے ۔ (1)
حضرت سیِّدُنااِمام جلالُ الدِّین سُیوطی شافعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : مِیلادِمُصطفٰے منانے میں حضورنَبِیِّ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مرتبے کی تعظیم ہے ۔ (2)
اسی طرح حضرت سیِّدُنامحمدبن یُوسف صالحیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : مِیلادمنانے میں حضورنَبِیِّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی محبت اورتعظیم ہے نیزاِس سے دل میں آپ
________________________________
1 - روح البیان ، پ۲۶ ، الفتح ، تحت الایة : ۲۹ ، ۹ / ۵۶
2 - الحاوی للفتاوی ، کتاب الصداق ، حسن المقصد فی عمل المولد ، ۱ / ۲۲۲