اور اس پر لگے ہوئے پَھل ، پُھول سب بے کاروضائع ہوجاتے ہیں ، اِسی طرح تَعْظِیْمِ مُصطفٰے اِیمان کے درخت کے لیے جَڑ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اس کے بغیر اِیْمان کا شجربھی ہرابھرا نہیں رہ سکتااور نیک اَعْمال کی صُورت میں اس پرلگے ہوئے پھل ، پُھول برباد ہوجاتے ہیں ۔ لہٰذااپنی نیکیوں کوباقی رکھنے اورشجرِایمان کوبڑھانے کے لیے اَدبِ رسول کولازِم سمجھئے ۔ حضرات صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ السَّلَامنے تعظیمِ مُصطفٰے کی ایسی مثالیں قائم کیں جن کی مِثالیں ملنا ممکن نہیں ۔ آئیے !شمْعِ رسالت کے ان پروانوں کے عشْقِ مُصطفٰے کی چند روایات سُنتے ہیں :
تعظیْمِ مصطفٰے کے بے مثال واقعات :
(1)…حضرات صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکمالِ اَدب واِحْترام کی وجہ سے حضورنَبِیِّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکادروازہ ناخنوں سے کھٹکھٹاتے تھے ۔ (1)
(2)…صُلْحِ حُدَیْبیہ کے سال قُریش نے حضرت سیِّدُناعُروَہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو ( جوابھی ایمان نہ لائے تھے ) ، شہنشاہِ دو عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس بھیجا ، اُنہوں نے دیکھاکہ آپ جب وُضوفرماتے تو صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانوضو کا پانی حاصل کرنے کے لئے اس قَدَر تیزی سے بڑھتے کہ یُوں معلوم ہوتا ، جیسے ایک دوسرے سے لڑ پڑیں گے ۔ جب لُعابِ مُبارَک ڈالتے یا ناک صاف کرتے تو صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناسے ہاتھوں میں لے کر ( بَطورِ تَبُّرک) اپنے چہرے اورجسم پر مَل لیتے ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوئی حکم دیتے تو فوراً تعمیل کرتے اورجب گفتگو فرماتے توسب خاموش رہتے اوراَزْراہِ تعظیم آپ کی طرف آنکھ اُٹھاکرنہ دیکھتے ۔ جب حضرت سیِّدُنا عُروَہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اَہْلِ مکہ کے پاس
________________________________
1 - المدخل للبیهقی ، باب توقیر العالم والعلم ، ۲ / ۱۷۱ ، حدیث : ۶۵۹