پکارنے سے منع فرمادیا تولوگ”یَانَبِیَّ اللہ!یَا رَسُوْلَ اللہ“کہنے لگے ۔ (1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!غورکیجئے !حُضُورنَبِیِّ پاک ، صاحِبِ لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تعظیم کا مُعامَلہ کس قَدر اَہَم ہے کہاللہعَزَّ وَجَلَّکویہ بات بھی ناپسند ہے کہ کوئی اُس کے حبیْبِ مُکَرَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکانام لے مُخاطَب کرے ۔ عُلماتصریح( صاف لفظوں میں) فرماتے ہیں : حُضُورِاَقْدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکونام لے کرنِداکرنی حَرام ہے ۔ (2) یادرہے !حُضُورنَبِیِّ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تعظیم صِرف حیاتِ ظاہری تک مَحْدُود نہیں تھی بلکہ رہتی دُنیا تک آنے والے ہرمُسلمان پرآپ کی تعظیم وتوقیر کرنا فرض ہے ۔
حضرت علامہ اِسمٰعیل حقّیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : حُضُورتاجدارِرسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ظاہِری حَیات اوروصالِ ظاہری کے بعد غَرَض ہرحالت میں آپ کی تَعْظِیْم وتَوقیر اُمَّت پہ لازِم اور ضَروری ہے کیونکہ دِلوں میں آپ کی تعظیم جتنی بڑھے گی اُتنا ہی نُورِ ایمان میں اِضافہ ہو گا ۔ (3)
خاک ہوکر عشق میں آرام سے سونا مِلا جان کی اِکسیر ہے اُلفت رسولُ اللہ کی(4)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہواحُضورِاَقْدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عشق ومَحَبَّت اورہرمُعاملے میں آپ کابے حداَدب ایمان میں اضافے کاسبب اور اِیمان کی جڑہے ۔ اسے یُوں سمجھئے کہ اگر کسی درخت کی جَڑ ہی کَٹ جائے تو وہ درخت سُوکھ جاتاہے
________________________________
1 - دلائل النبوة لابی نعیم ، الفصل الاول فی ذکر ما انزل اللہ...الخ ، ص۱۹
2 - فتاویٰ رضویہ ، ۳۰ / ۱۵۷
3 - روح البیان ، پ۲۲ ، الاحزاب ، تحت الایة : ۵۳ ، ۷ / ۲۱۶
4 - حدائق بخشش ، ص۱۵۳