Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
244 - 541
نام لے کر پکارنے کی ممانعت : 
	یادرکھئے !یہ اِنعامات اُسی وَقْت حاصل ہوں گے جب ہم ہرمُعاملے میں تمام انبیا عَلَیْہِمُ السَّلَامخُصُوصاًسیِّدُالاَنْبیا ، محمدِمُصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تَعْظِیْم وتَوقیرکواپنے اِیمان کا حصّہ سمجھیں گے اوران کی اَدْنیٰ سے اَدْنیٰ توہین سے بھی بچیں گے ۔ اللہعَزَّ  وَجَلَّنے آدابِ نبوی سکھاتے ہوئے جہاں  بارگاہِ رسالت میں آواز بُلند کرنے سے منع فرمایاوہیں آپ کو عامیانہ اَنْدازمیں پُکارنے کی بھی مُمانعت فرمائی ہے ۔ چُنانچہ
	پارہ18 ، سُوْرَۃُ النُّوْر ، آیت نمبر63میں اِرْشاد ہوتا ہے : 
لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًاؕ     ( پ۱۸ ، النور : ۶۳)
ترجمۂ کنزالایمان : رسول کے پکارنے کوآپس میں ایسا نہ ٹھہرا لو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے ۔
	صَدْرُالاَفاضِل ، حضرت علامہ مولانامفتی  سیِّدمحمدنعیْمُ الدِّین مُرادآبادیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ( اس آیت کے ) ایک معنیٰ مُفسِّرین نے یہ بھی بیان فرمائے ہیں کہ( جب کوئی) رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو نِداکرے ( پُکارے ) تواَدَب وتکریم اور تَوْقِیْروتعظیم کے ساتھ آپ کے مُعظَّم اَلْقاب سے نرم آواز کے ساتھ مُتَواضِعَانہ و مُنْکَسِرَانہ( عاجزی والے ) لہجہ میں ” یَانَبِیَّ اﷲ!  یَارَسُوْلَ اﷲ! یَاحَبِیْبَ اﷲ!“ کہہ کر ( پُکارے ) ۔ (1) 
	اِمَامُ الْمُفَسِّرِیْنحضرت سیِّدُناعبْدُاللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں : لوگ حُضُورنَبِیِّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو”یَامُحَمَّدُ!یَااَبَاالْقَاسِم!“کہہ کرپکاراکرتے تھے پھراللہعَزَّ  وَجَلَّنے اپنے محبوب نبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تعظیم کے لئے اِس طرح



________________________________
1 -     خزائن العرفان ، پ۱۸ ، النور ، تحت الایہ : ۶۳