دُوسری بے اَدَبی کا ذِکْر ہی کیا ہے ۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ نہ ان کے حُضُور چِلّا کر بولو ، نہ انہیں عام اَلْقاب سے پُکارو جن سے ایک دوسرے کو پُکارتے ہیں ، چچا ، ابّا ، بھائی ، بشر نہ کہو ، رَسُوْلُ اللہ ، شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن کہو ۔ (1)
بارگاہِ ناز میں آہستہ بول ہونہ سب کچھ رائیگاں آہستہ چل(2)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اَللہُرَحْمٰنعَزَّ وَجَلَّکاپاک کلامسَیِّدُالْاِنْس وَالْجان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عظمت وشان کوواضح طورپربیان کررہا ہے اور ہمیں اُن کے دَرکی حاضری کے آداب سکھارہاہے کہ دَربارِرسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں صرف آوازکا بُلندہوجاناہی اتنابڑاجُرم ہے کہ اس کی وجہ سے تمام نیکیاں ضائع ہوجاتی ہیں ۔ مشہور مُفَسِّرِقرآن ، حکیْمُ الاُمَّت مفتی احمدیارخانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : دُنیاوی بادشاہوں کے دَرباری آداب انسانی ساخت( انسانوں کے بنائے ہوئے ) ہیں مگرحُضُورکے دروازے شریف کے آداب رَبّ( عَزَّ وَجَلَّ) نے بنائے ، رَبّ نے سِکھائے ۔ نیزیہ آداب صرف اِنسانوں پر ہی جاری نہیں بلکہ جِنّ و اِنْس و فرشتے سب پر جاری ہیں ۔ فرشتے بھی اِجازت لے کردولت خانہ میں حاضری دیتے تھے ، پھر یہ آداب ہمیشہ کے لیے ہیں ۔ (3)
تِرے رُتبہ میں جس نے چون وچرا کی نہ سمجھا وہ بدبخت رُتبہ خدا کا(4)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
________________________________
1 - نور العرفان ، پ۲۶ ، الحجرات ، تحت الایہ : ۲
2 - راہِ مصطفٰے ، ص۶۳
3 - نور العرفان ، پ۲۶ ، الحجرات ، تحت الایہ : ۵
4 - ذوق نعت ، ص۳۸