یعنی عَمَل کریں ، مَشَقَّتیں اُٹھائیں اوربدلہ کیاہوگا؟یہی کہ بَھڑکتی آگ میں جائیں گے ۔ (1)
آج لے اُن کی پناہ آج مدد مانگ اُن سے پھر نہ مانیں گے قیامت میں اگرمان گیا(2)
ترکِ تعظیم کی تباہ کاریاں :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ آیاتِ مُبارَکہ اوراعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے اِرْشاداتِ عالیہ سے واضح ہواکہ تعظیْمِ مُصْطَفٰے ہی اَصْلِ ایمان ہے پس اگر کوئی شَخْص اِس سے پہلو تَہی( کنارہ کشی) کرتے ہوئے دِیگر نیک اعمال کی سَعی( کوشش) کرتا ہے تو اس کا کوئی عمل قابلِ قَبول نہ ہوگا ۔ تعظیْمِ مُصطفٰے میں ذَرا سی خامی تمام نیک اعمال کی بَربادی کا باعث بن سکتی ہے ۔ جیسا کہ پارہ26 ، سُوْرَۃُ الْحُجْرَات ، آیت نمبر2میں اِرْشادِ باری تعالیٰ ہے :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) ( پ۲۶ ، الحجرات : ۲)
ترجمۂ کنز الایمان : اے ایمان والواپنی آوازیں اونچی نہ کرواس غیب بتانے والے ( نبی) کی آواز سے اوران کے حضور بات چلّا کر نہ کہوجیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہوکہ کہیں تمہارے عمل اکارت( ضائع) نہ ہوجائیں اورتمہیں خبرنہ ہو ۔
مشہورمُفسرِقرآن ، حکیْمُ الاُمَّت مُفتی احمدیارخان نعیمیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاس آیتِ کریمہ کے تحت فرماتے ہیں : معلوم ہوا کہ حُضُور کی اَدْنیٰ بے اَدَبی کُفْر ہے کیونکہ کُفْر ہی سے نیکیاں برباد ہوتی ہیں ، جب ان کی بارگاہ میں اُونچی آواز سے بولنے پر نیکیاں برباد ہیں تو
________________________________
1 - فتاویٰ رضویہ : ۳۰ / ۳۰۷ ، ملخصاً
2 - حدائق بخشش ، ص۵۶