Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
240 - 541
دِیْنِ اِسْلام بھیجنے ، قرآنِ مَجِیداُتارنے کامَقْصدتین باتیں اِرْشادفرمائی ہیں : پہلی یہ کہاللہو رسول پرایمان لانا ، دُوسری یہ کہرَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تَعظِیم کرنا ، تیسری یہ کہ اللہتبارک وتعالیٰ کی عِبادَت کرنا ۔ ان تینوں باتوں کی بہترین تَرتِیب تودیکھئے ، سب سے پہلے اِیْمان کاذِکْرفرمایااورسب سے آخرمیں اپنی عبادت کااوردرمیان میں اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تَعظِیم کاحکم اِرْشادفرمایاکیونکہ اِیمان کے بغیرحُضُورکی تعظیم فائدہ نہ دے گی ۔ بہت سے غَیْرمُسلِم ایسے ہیں کہ نبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکیتَعظِیم وتکرِیم اورحُضُورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپرغیرمسلموں کی طرف سے کیے جانے والے اِعتراضات کے جوابات میں کتابیں لکھتے اورلیکچردیتے ہیں ، مگرچُونکہ ایمان نہ لائے تواِن کااِعْتِراضات کے جواب دینافائدہ مَنْدنہیں ہوگاکیونکہ یہ  ظاہِری تَعظِیم ہے ۔ اگردِل میں حُضُورِ اَقْدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سچی عَظَمَت ہوتی توضَرُوراِیمان لاتے کیونکہ جب تک نبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سچی تعظیم نہ ہوتواگرچہ  ساری  زِنْدگی عِبادَتِ اِلٰہی میں گُزرے سب بے کار ہے اوربارگاہِ الٰہی میں اَصْلاً قابلِ  قَبول نہیں ، اللہعَزَّ  وَجَلَّایسوں کے بارے میں فرماتا ہے : 
وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا(۲۳) ( پ۱۹ ، الفرقان : ۲۳)
ترجمۂ کنز الایمان : اورجو کچھ انھوں نے کام کئے تھے ہم نے قَصْد فرماکر انھیں باریک باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذرّے کردیاکہ روزن کی دھوپ میں نظر آتے ہیں  ۔
	اوریہ بھی  اِرْشادفرماتا ہے : 
عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌۙ(۳) تَصْلٰى نَارًا حَامِیَةًۙ(۴) ( پ۳۰ ، الغاشیة : ۳ ، ۴) 	ترجمۂ کنزالایمان : کام کریںمَشَقَّتجھیلیں جائیں بھڑکتی آگ میں  ۔