کی تَعْظیم کے سبب بخشش ومغفرت کاحقدارہوسکتاہے توپھراُمَّتِمُحَمَّدِیَّہکاوہ فردجواپنے پیارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نہ صرف نام کی تعظیم کرے بلکہ آپ کی ذات اور آپ سے نِسْبَت رکھنے والی ہرشے کی تَعظیم وتوقیرکولازِم وضروری جانے توپھراس پر رَحْمتِ خُداوَنْدی کی کیسی چھماچھم بارشیں ہوں گی ۔
قرآنِ کریم میں تعظیم مصطفٰے کا حکم :
اس روایت سے یہ بھی معلوم ہواکہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نامِ مُبارَک کوتعظیماًچُومنانہ صِرف جائزہے بلکہاللہعَزَّ وَجَلَّکی رِضاوخُوشنودی حاصل کرنے کاذَریعہ بھی ہے ۔ یادرکھئے !ایمان لانے کے بعدتعظیْمِ مُصْطَفٰے ہی مَطْلوب ومَقْصُودہے اوراِسی پر ایمان کا مَدارہے ۔ دَعْویٔ اِیمان کے لیے تعظیم وتوقیر مُصْطَفٰے کی اَہَمیَّت وضرورت پر کئی آیاتِ مُبارَکہ دَلالت کرتی ہیں ۔ چُنانچہاللہعَزَّ وَجَلَّپارہ26 ، سُوْرَۃُ الْفَتْح ، آیت نمبر8اور9میں اِرْشاد فرماتا ہے :
اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ-وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا(۹) ( پ۲۶ ، الفتح : ۸ ، ۹)
ترجمۂ کنزالایمان : بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظراور خُوشی اور ڈر سُناتا تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو اور صبح و شاماللہکی پاکی بولو ۔
ایمان ، تعظیم اورعبادت :
اعلیٰ حضرت ، امامِ اَہلِسُنت ، مولاناشاہ امام احمدرضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰننے اس آیتِ کریمہ کے ضمن میں جواِرْشادفرمایااس کا خلُاصہ یہ ہے : مُسَلمانو!دیکھواللہعَزَّ وَجَلَّ نے