اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا رَسُولَ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا حَبِیْبَ اللہ
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا نَبِیَّ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا نُوْرَ اللہ
درود شریف کی فضیلت :
حضورپرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ مُعظم ہے : جوشخص یوں دُرودِپاک پڑھے اُس کے لیے میری شفاعت واجب ہوجاتی ہے : اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍوَّاَنْزِلْہُ الْمَقْعَدَالْمُقَرَّبَ عِنْدَکَ یَوْمَ الْقِیَامَۃ ۔ (1)
پُوچھے گا مولیٰ ہے لایا کیا کیا میں یہ کہوں گا نامِ محمد
رکھو لحد میں جس دَم عزیزو مجھ کو سُنانا نامِ محمد(2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
نامِ مصطفٰے کی تعظیم بخشش کاسبب بن گئی :
حضرت سیِّدُناوَہْب بن مُنَبِّہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت ہے کہ بَنی اِسْرائِیْل میں ایک ایساشَخْص تھاجس نے اپنی زِنْدگی کے 200سالاللہعَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی میں گُزارے ، اسی نافرمانی کے عالَم میں اسے موت آ گئی ، بَنی اِسْرائِیْل نے اس کے مُردَہ جِسم کوٹانگ سے پکڑااورگھسیٹ کرگَندَگی کے ڈھیرپرپھینک دیا ۔ اللہعَزَّ وَجَلَّنے اپنے نبی حضرت سیِّدُنامُوسیٰکَلِیْمُاللّٰہعَلٰی نَبِیِّنَا
________________________________
1 - معجم کبیر ، ۵ / ۲۵ ، حدیث : ۴۴۸۰
2 - قبالَۂ بخشش ، ص۷۳ ، ۷۴