دُوسری بارسَفرِمدینہ کے موقع پرسرورِعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حالَتِ بیداری میں اپنے دِیدار کا جام بھی پِلایا ۔
٭ … اَعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی عقیدتوں کامرکزمَدِیْنَۃُالرَّسُوْلتھااورآپ فَنافِی الرَّسُول کے اَعْلیٰ مَرتبے پرفائزتھے ۔ خُودہی فرمادِیاکہ اگرکوئی میرے دل کے دو ٹکڑے کردے تو ایک پرلَاۤ اِلٰہَ اِلَّااللہاوردوسرے پرمُحَمَّدٌرَّسُولُ اللہلکھا ہوا پائے گا ۔
٭ … آپ حُضُورنَبِیِّ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نامِ اَقْدس اورآپ سے تَعلُّق و نِسْبَت رکھنے والی ہر شے کا بے حداَدَب بَجالاتے نیز ساداتِ کرام کے ساتھ بھی ایسا اَدَب و تعظیم والا سُلوک فرماتے کہ دیکھنے والے حیرت میں پڑ جاتے ۔
٭ … آپ نے قلمی ، زَبانی اورعملی ہرطریقے سے لوگوں کی شَرعی رَہْنُمائی فرمائی ، خُودبھی اَسْلاف کے نَقْشِ قدم پرچلے اورلوگوں کوبھی ان کے راستے پرچلنے کی تاکیدفرماتے رہے ۔
٭ … آپ نامُوسِ رسالت کے سچے پاسبان تھے ، عام مُسلمانوں کے لئے اِنتہائی رَحْم دِل جبکہ بدمذہبوں اور گُستاخانِ رسول و دُشمنانِ صحابہ و اَوْلیا کے لئے شَمشیرِ بے نِیام کی مانند تھے ، ساری زِندگی بد دِینوں کا قلع قمع کرنے میں مصروف رہے ۔
٭ … ترجمَۂ قرآن”کنزالایمان“اورنعتیہ دیوان”حدائِقِ بخشش“آپ کے وہ شاندار کارنامے ہیں کہ انہیں پڑھتے یا سُنتے وَقْت سینے میں مَوْجُود دل عِشْقِ رسول میں جُھومنے لگتا ہے ، اَلْغرض اَعْلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکاعِشْقِ رسول ہمارے لئے بہترین نمونہ ہے ۔
دعاہے : اللہعَزَّ وَجَلَّ ہمیں بھی اَعْلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے صَدْقے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سچی مَحَبَّت عطافرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد