بہت کم لوگوں کا ہوتا ہے ۔ جی ہاں!آج کل جس طرح عام گفتگو میں فُضول اَلفاظ کی بھر مار پائی جاتی ہے ، اِسی طرح بیان اورنعتیہ کلام میں بھی ہوتا ہے ۔ لہٰذا اَدَب کاتقاضا تو یہی ہے کہ فَنِّ نعت سے ناواقِف اَفراد خُود سے نعتیں لکھنے کا شوق ہرگز نہ پالیں کہ اِسی میں دونوں جہان کی بھلائی ہے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہجب تک زندہ رہے عِشْقِ رسول کے طُفیل بارگاہِ مُصْطَفٰے سے حاصل ہونے والے اَنوار و تَجَلِّیات سے خُود بھی فیضیاب ہوتے رہے اور مخلوقِ خُدا کو بھی فیضیاب کرتے رہے نیز رحمَتِ عالَم ، نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عِنایتوں کاسلسلہ صرف آپ کی حیات تک ہی مَحْدُود نہ رہا بلکہ بعدِ وِصال بھی آپ پر لُطف و رِضوان کی بارشیں ہوتی رہیں ۔ چُنانچہ
دربارِ رسالت میں انتظار :
25صَفَر المُظَفَّرکو بَیْتُ المقدَّس میں ایک شامی بُزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے خواب میں خودکودربارِرسالت میں پایا ۔ تمام صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناوراَولیائے عِظام ، دربارمیں حاضِرتھے لیکن مجلس میں خاموشی طاری تھی اورایسا معلوم ہوتا تھا کہ کسی آنے والے کا اِنتظار ہے ۔ شامی بُزرگ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی : حُضور ، میرے ماں باپ آپ پر قُربان ہوں!کس کااِنتظارہے ؟سیِّدِعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ”ہمیں اَحمدرضا کااِنتظار ہے ۔ “شا می بُزرگ نے عرض کی : حُضُور!اَحمدرضاکون ہیں؟ارشاد ہوا : ہندوستان میں” بریلی“کے باشِندے ہیں ۔ بیداری کے بعدوہ شامی بُزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مولانااحمدرضارَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی تلاش میں ہندوستان کی طرف چل پڑے اورجب وہ بریلی