نہ ہی ہر کسی کو اس کی اجازت ہے ، نعتیہ شاعری کے لئے فَنِّ شاعری کے اُصولوں کے ساتھ ساتھ عِلمِ دین کی دولت اور عُلمائے حق کی صحبت وغیرہ کئی چیزیں ضروری ہیں ۔ بہت سے ایسے شاعر جن کا دنیوی شاعری میں کوئی ثانی نہیں ، مگر جب انہوں نے نعتیہ شاعری کے میدان میں قسمت آزمائی تو عِلمِ دین اور علمائے دِین کی صحبت سے مَحْروم ہونے کی وجہ سے ایسی ایسی ٹھوکریں کھائیں کہ اَلْاَمَان وَالْحَفِیْظ ۔
قربان جائیے !اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے کمالِ احتیاط پرکہ نعت لکھنے کے کامل اَہل ہونے اورفَنِّ شاعری کے اُصولوں میں مہارت حاصل ہونے کے باوُجود نعت شریف لکھنے کو ایک مُشکل کام کہا کرتے تھے ۔ چُنانچہ خُودہی فرماتے ہیں : حقیقۃً نعت شریف لکھنا نہایت مُشکل ہے ، جس کو لو گ آسان سمجھتے ہیں ، اِس میں تلوار کی دھار پر چلنا ہے ۔ (1)
شیْخِ طریقت امیْرِ اہلسنتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی کتاب”کُفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب“صفحہ232پرنعتیہ شاعری کرنے کے بارے میں لکھتے ہیں : یہ سُنَّتِ صَحابہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانہے یعنی بعض صحابہ مَثَلاًحسّان بن ثابِترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاورحضرت سیِّدُنا زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہوَغَیْرَھُماسے نعتیہ اَشْعارلکھناثابت ہے ۔ تاہم یہ ذِہن میں رہے کہ نعت شریف لکھنا نہایت مُشکِل فَن ہے ، اِس کے لئے ماہِرِفَن ، عالِمِ دین ہونا چاہئے ورنہ عالِم نہ ہونے کی صورت میں رَدیف ، قافِیہ اوربَحر( یعنی شعر کے وَزَن) وغیرہ کو نِبھانے کے لیے خلافِ شان اَلفاظ ترتیب پا جانے کا خَدشہ رہتا ہے ۔ عوامُ النّاس( عام لوگوں ) کو شاعِری کا شوق چَرانامناسِب نہیں کہ نَثرکے مُقابلے میں نَظَم میں کُفرِیّات کے صُدُور( یعنی وُقوع) کا زیادہ اندیشہ رہتا ہے ۔ اگر شرعی اَغلاط سے کلام محفوظ رہ بھی گیا تو فُضولیات سے بچنے کا ذِہن
________________________________
1 - ملفوظات اعلیٰ حضرت ، ص۲۲۷