Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
223 - 541
 کی صحبت کو اپنے لئے باعثِ فَخَرسمجھیں ، آپ سے حدیث روایت کرنے کی اجازت طَلَب کریں ، آپ کے مجدِّدِوقت ، ولِیِ کامل اورعاشِقِ رسول ہونے کی گواہی دیں ، جنہیں50 سے زائدعلوم و فُنُون میں کامل مہارت حاصل ہے ، جنہوں نے اُمت کو لُغْوی ، مَعْنَوی ، اَدَبی اورعلمی کمالات پرمُشْتَمِل ذاتِ خُداجَلَّ جَلَالُہٗ ، عظمَتِ مُصْطَفٰے اورمُقَدَّس ہستیوں کے اَدَب واِحْتِرام کاپاسبان ترجَمۂ قرآن”کنزُالایمان“دیا ، چھ ہزارآٹھ سوسینتالیس( 6847) سُوالات وجوابات اور206رسائل سے مُزَّین30جلدوں پر مُحیط اکیس ہزارچھ سو چھپن( 21,656) صفحات پر مُشْتَمِل فتاویٰ رضویہ جن کے علمی مقام و مرتبے کا ثُبُوت ہے ۔ جن کی وُسعَتِ علمی اور فَصَاحت و بلاغت کے ہر طرف چرچے ہو رہے ہیں ، جنہوں نے حرمین شریفین میں دودن کے مختصرعرصے اوروہ بھی بیماری کی حالت میں”اَلدَّوْلَۃُ الْمَکِّیَّۃُ“جیساتحقیقی رسالہ عربی میں لکھ کرمحبوبِ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لئے عِلمِ غیب کے ثُبُوت پر دلائل کے اَنْبار لگائے اور دُشمنانِ رسول کے دانت کھٹّے کئے نیز عُلمائے حَرَمَیْن سے دادِتحسین  وصول کی ، آج وہی امامِ عشق  و مَحَبَّت عاجزی و اِنکساری کی تصویر بنے ، سر ِعام ایک سیِّد زادے کے حُضور گِڑگِڑا کر مُعافی مانگ رہے ہیں اور خُود پالکی میں بیٹھنے کے بجائے سَیِّد زادے کو پالکی میں بٹھاکر پالکی کا بوجھ اپنے کندھے پر اُٹھا رہے ہیں ۔ سادات کرام سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی محبت وعقیدت کااندازہ اس بات سے بھی لگایاجاسکتاہے کہ آپ کے متعلقین میں سے اگرکوئی سادات کرام کے معاملے میں بے احتیاطی اوربے تہذیبی کر بیٹھتا توناراضی کااظہارفرماتے اورآئندہ ان کے ادب واحترام کی تلقین فرماتے ۔ 
غور کیجئے کہ جسے ساداتِ کرام کی عقیدت و مَحَبَّت اور اُن کے اِحْتِرام کا اِس قدر لحاظ ہواُسے سیِّدوں کے سردارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کس قدروالہانہ عشق ہوگا ۔