بُھول ہوگئی ، ہائے غَضَب ہوگیا!جن کی نَعْلِ پاک میرے سَرکاتاجِ عزّت ہے ، اُن کے کاندھے پرمیں نے سُواری کی ، اگربروزِقِیامت تاجدارِرسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پُوچھ لِیاکہ احمد رضا! کیا میرے فرزند کا دَوشِ نازنیں( یعنی نازُک کندھا) اِس لئے تھا کہ وہ تیری سُواری کا بوجھ اُٹھائے ؟تو میں کیا جواب دوں گا! اُس وَقت میدانِ محشر میں میرے ناموسِ عِشق کی کتنی زبردست رُسوائی ہوگی ۔ کئی بارزَبان سے مُعاف کردینے کااِقْرار کروالینے کے بعدامامِ اہلسنّترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے آخری اِلْتِجائے شوق پیش کی : محترم شہزادے ! اس لاشُعُوری میں ہونے والی خَطا کا کَفّارہ جبھی اَدا ہوگا کہ اب آپ پالکی میں سُوار ہوں گے اور میں پالکی کو کاندھا دُوں گا ۔ اس اِلتجا پر لوگوں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اوربعض کی تو چیخیں بھی بُلند ہوگئیں ۔ ہزاراِنْکار کے بعد آخِر کار مزدُور شہزادے کو پالکی میں سُوار ہونا ہی پڑا ۔ یہ مَنْظَر کس قَدَر دل سوز ہے ، اہلسنّت کا جلیلُ القَدر امام مزدُوروں میں شامِل ہوکراپنی خُدادادعلمیّت اورعالمگیرشُہرت کاسارااِعزازخُوشنُودیِ محبوب کی خاطر ایک گُمنام مزدورشہزادے کے قدموں پر نِثار کررہا ہے ۔ (1)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سبحٰناللہعَزَّ وَجَلَّ!دیکھاآپ نے کہ اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکوسچّے عِشْقِ رسول کے صدقے ایک مخصوص خُوشبوکے ذریعے معلوم ہوگیا کہ پالکی اُٹھانے والے مزدوروں
میں کوئی سَیِّد زادے بھی ہیں اورپھر وہاں موجود بہت سے لوگوں نے اپنی آنکھوں سے عشق کا یہ نِرالا انداز دیکھا کہ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہجن کا مقام اِتنا بلند ہے کہ عَرَب و عَجَم کے نامی گرامی علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام اُن سے شرفِ بیعت حاصل کریں ، آپ
________________________________
1 - انواررضا ، ص۴۱۵