Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
224 - 541
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جب کسی کو کسی سے عشق ہوجاتا ہے تو عاشق اپنے قلبی جذبات کااِظہاراورمحبوب کی تعریف و توصیف بیان کرنے کے لئے بسا اَوقات اَشْعار کاسہارا لیتا ہے کیونکہ اَشْعارکے ذریعے اپنے دِلی جذبات بہت اچھے اندازمیں بیان کئے جاسکتے ہیں ۔ لہٰذااعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے بھی اپنے عشق کے اِظہارکے لئے نعتیہ شاعری  بھی فرمائی ۔  چُنانچہ عشق و مستی میں ڈُوب کرلکھے گئے کلاموں پرمشتمل نعتیہ مجموعہ بنام ”حدائِقِ بخشش“ آپ کی شاعری کا ایک عظیم کارنامہ ہے ۔  آپ کی نوکِ قلَم سے تحریر کِیا گیاایک ایک شعرشریعت کے عین مُطابق ہے ۔ یوں توآپ کے اِس مجموعے کے تقریباً ہرہرکلام کوزبردست شُہرت حاصِل رہی ، مگربِالخُصُوص سلامِ رضا( یعنی مُصْطَفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام ، شَمْعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام) کواللہعَزَّ  وَجَلَّنے جوعُروج و مرتبہ بخشاہے وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ”حدائِقِ بخشش“اور”سلامِ رضا“کی خُوبیوں پر مختلف اِعْتِبار سے کُتُب و رَسائل تَصْنِیْف کئے جانے کا سلسلہ آج تک جاری ہے ۔ بچّے بُوڑھے جوان اور مردو عورت سبھی مَحافِل وغیرہ میں اس سلام کو عِشْقِ رسول میں بے ساختہ جُھوم جُھوم کر پڑھتے ہیں اور اُن پرایک عجیب رِقّت طاری ہوجاتی ہے ۔ 
	اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس سلام میں آقاومولیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دیگر فضائل و کمالات کے ساتھ ساتھ جِسمِ اقدس کے نورانی  اَعضائے مُبارکہ کی شان و شوکت بھی بہت عُمدہ انداز میں بیان فرمائی ہے ۔ جیسے دھوپ اورچاندنی میں آپ کے جسْمِ اقدس کا سایہ نہیں تھا ، آپ کے تاجِ نبوت کی یہ شان تھی  کہ بڑے بڑے سرداربھی  بارگاہ ِ رسالت میں سرجھکاتے ، آپ کے گوش مبارک  ایسے کہ   مِیلوں دُور کی آواز بھی سن لیا کرتے ، چشمانِ مبارک حَیاسے جھکی رہتیں ، مُبارک زبان ایسی کہ جوکہہ دیاہوکررہا ۔ آپ