سے نِگاہیں جُھکالیں ۔ اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا : جائیے !آئندہ خیال رکھئے گا ۔ (1)
تیری نسْلِ پاک میں ہے بچہ بچہ نورکا تُو ہے عیْنِ نورتیرا سب گھرانا نورکا(2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سیِّدزادے کی انوکھی تعظیم :
شیْخِ طریقت ، اَمِیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہاپنے رسالے ”بریلی سے مدینہ“صفحہ15 پرتحریر فرماتے ہیں : مدینَۃ ُ الْمرشِدبریلی شر یف کے کسی محلے میں اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمدرضاخانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمَدعو( یعنی دعوت پر بُلائے گئے ) تھے ۔ اِرادت مندوں نے اپنے یہاں لانے کے لئے پالکی کا اِہتمام کِیا ۔ چُنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسُوار ہوگئے اورچارمزدور ، پالکی کو اپنے کندھوں پر اُٹھا کر چل دیئے ۔ ابھی تھوڑی ہی دُور گئے تھے کہ یَکایَک ، امامِ اہلسنّترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے پالکی میں سے آوازدی : ’’ پالکی روک دیجئے ۔ ‘‘
پالکی رُک گئی ۔ آپ فوراً باہَر تشریف لائے اور بَھرّائی ہوئی آواز میں مزدُوروں سے فرمایا : سچ سچ بتایئے !آپ میں سیِّدزادہ کون ہے ؟ کیونکہ میرا ذَوقِ ایمان سرورِ دوجہان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خُوشبو محسوس کررہا ہے ، ایک مزدُور نے آگے بڑ ھ کر عرْض کی : حُضور! میں سیِّدہوں ۔ ابھی اس کی بات مکمل بھی نہ ہونے پائی تھی کہ عالَمِ اسلام کے پیشوا اور اپنے وقت کے عظیم مجدِّد نے اپنا عِمامہ شریف اُس سیِّد زادے کے قدموں میں رکھ دِیا ۔ امامِ اہلسنّترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی آنکھوں سے ٹَپ ٹَپ آنسو گِررہے ہیں اور ہاتھ جوڑ کر اِلْتِجاکررہے ہیں : مُعَزَّز شہزادے ! میری گُستاخی مُعاف کردیجئے ، بے خَیالی میں مُجھ سے
________________________________
1 - حیات اعلیٰ حضرت ، ۱ / ۱۸۳ملخصاً
2 - حدائق بخشش ، ص۲۴۶