حضرت( رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) اپنے قصیدۂ نور میں عرض کرتے ہیں ۔ (1)
تیری نَسْلِ پاک میں ہے بچّہ بچّہ نُور کا تُو ہے عَینِ نور تیرا سب گھرانا نُور کا(2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
آئیے !ساداتِ کرام کی مَحَبَّت واُلفت سے بھرپُوراعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دو ایمان افروزواقعات سنتے ہیں تاکہ ہمارے دلوں میں بھی ساداتِ کرام کی مَحَبَّت و عظمت کا جذبہ پیدا ہو ۔ چُنانچہ
نام لینے والے کی اِصلاح فرمائی :
ملِکُ الْعُلَما ، حضرت علّامہ مولانا ظَفَرُ الدّین قادری رَضَوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں : حضرت مولانا نُورمحمدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاورحضرت مولاناسیِّدقناعَت علیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی یہ دونوں حضرات مجدِّدِدین وملّت ، اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی صحبَتِ بابرکت میں رہ کرعِلمِ دین حاصل کر تے تھے ۔ ایک مرتبہ مولانا نُورمحمدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے سَیِّد صاحب کا نام لے کر اِس طرح پُکارا : قناعت علی ، قناعت علی!جب حُضورنَبِیِّ اَکْرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے عاشِقِ صادِق ، اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے کانوں میں یہ آواز پڑی تو گوارا نہ کِیاکہ خاندانِ رسول کے شہزادے کواس طرح نام لے کرپُکاراجائے ۔ فوراً مولانانُور محمد صاحبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکوبُلوایااوراِنفرادی کوشش کرتے ہوئے فرمایا : کیا سیِّد زادوں کو اِس طرح پُکارتے ہیں؟کبھی مجھے بھی اِس طرح پُکارتے ہوئے سُنا؟ ( یعنی میں تو اُستاد ہوں پھر بھی کبھی ایسا اندازاِختیارنہیں کِیا) یہ سُن کرمولانانُورمحمدصاحب بہت شرمندہ ہوئے اورندامت
________________________________
1 - حیات اعلی حضرت ، ۱ / ۱۷۹
2 - حدائق بخشش ، ص۲۴۶