Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
219 - 541
 ہرگزحاصل نہیں ہوسکتے ، لہٰذاجولوگ عقائدکے مُعاملے میں تَذبذُب اور شُکوک و شُبہات کاشِکارہوں اُن سے نرمی کی جائے تاکہ وہ راہِ راست پر آجائیں ۔ (1) 
ڈال دی قلب میں عظمَتِ مُصطفٰے 		حکمَتِ اعلیٰ حضرت پہ لاکھوں سلام
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ساداتِ کرام سے عقیدت کی وجہ : 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!چونکہ ایک سچّے عاشق کے نزدیک محبوب سے نسبت رکھنے والی ہرچیزقابلِ عقیدت و مَحَبَّت اور لائِقِ اِحْتِرام و عزّت ہوتی ہے ، لہٰذاسیِّدِی اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبھی پیارے آقا ، مکی مدنی مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے منسوب ہر چیز سے محبت کرنے کے ساتھ ساتھ سیِّد زادوں سے خاص عقیدت رکھتے تھے جیسا کہ
 ملِکُ الْعُلَما ، حضرت علّامہ مولاناظَفَرُ الدّین قادری رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں : ساداتِ کرام ، جُزءِ رسول( یعنی نَبِیِّ پا کصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جسْمِ مُنَوَّرکاٹکڑا) ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ تعظیم و توقیرکے حق دار ہیں اور اِس پر پُورا عمل کرنے والا میں نے اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو پایا ۔ اس لئے کہ کسی سیِّد صاحِب کو وہ اُس کی ذاتی جان پہچان یا قابلیت کے اعتبار سے نہیں دیکھتے تھے بلکہ اِس حیثیَّت سے مُلاحَظہ فرمایا کرتے تھے کہ وہ سرکارِدوعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ’’ جُزء  ‘‘ ہیں ، پھراِس عقیدت ونظریے کے بعدجو کچھ اِن( ساداتِ کرام) کی تعظیم و تَوْقِیْر کی جائے ، سب دُرُست و بَجا ہے ۔ اعلیٰ 



________________________________
1 -    امام احمدرضااورعِشْقِ مصطفٰے ، ص۲۷۸ملخصاً