مُعاملے میں اِنتہائی شفیق و مہربان جبکہ دشمنانِ دین کے حق میں سخت تھے ۔
محمدکی مَحَبَّت دِیْنِ حق کی شرطِ اوّل ہے اِسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی تحریروں کا بغور مطالعہ کرنے پر یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ بُرے عقیدے رکھنے والوں کا سختی کے ساتھ ردّ کرنے میں ہرگزآپ کااپناکوئی ذاتی مفادنہ تھابلکہ فقطاللہورسولعَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مَحَبَّت نے آپ کویہ انداز اختیارکرنے پر اُبھارا ، ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ آپ نے اپنی ذات کی خاطرکبھی بھی کسی سے بدلہ نہ لِیا اور یہی ایک مومن کے ایمانِ کامل کی علامت ہے ۔
ایمانِ کامل کی علامت :
حدیْثِ پاک میں ہے کہ مصطفٰے جانِ رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : مَنْ اَحَبَّ لِلّٰہِ وَاَبْغَضَ لِلّٰہِ وَاَعْطٰی لِلّٰہِ وَمَنَعَ لِلّٰہِ فَقَدِاسْتَکْمَلَ الْاِیْمَانَیعنی جس نے اللہ تعالیٰ کی خاطر مَحَبَّت کی اوراللہتعالیٰ کی خاطر ہی بغض رکھااوراللہعَزَّ وَجَلَّ کی خاطرہی کسی کوکچھ دِیااوراللہعَزَّ وَجَلَّکی خاطرہی دینے سے رُکاتو یقیناًاس نے اِیمان مکمل کرلِیا ۔ (1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واقعی اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی سختیاں اورنرمیاں سب رِضائے الٰہی کے لئے تھیں ، اللہعَزَّ وَجَلَّاوراُس کے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دُشمنوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کے حق میں آپ نہ صرف خُود نرم مِزاج تھے بلکہ وقتاًفوقتاًدوسروں کوبھی نرمی اِختیار کرنے کی تاکیدفرمایا کرتے ۔ چُنانچہ آپ اپنے متعلِّقین کو نصیحت کے مدنی پھول عطا کرتے ہوئے فرماتے ہیں : نرمی کے جو فوائدہیں ، وہ سختی سے
________________________________
1 - ابو داود ، کتاب السنة ، باب الدلیل علی زیادة الایمان ، ۴ / ۲۹۰ ، حدیث : ۴۶۸۱