Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
217 - 541
خلق تو کیا کہ ہیں خالق کو عزیز		          کچھ عجب بھاتے ہیں بھانے والے
کیوں رضاؔ آج گلی سُونی ہے 		     اُٹھ مِرے دُھوم مچانے والے (1)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
	اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی سِیْرَت و کردار کا باریک بِینی کے ساتھ مُطالَعہ کرنے والے اِس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ آپ ایک زبردست عاشِقِ رسول تھے ، آپ  کی شَخْصِیّت بے شُمارخُوبیوں کی جامع تھی اور ایک ولِیِ کامل ہونے کے لحاظ سے آپ  اِنتہائی نَرْم طبیعت اورمنکسرالمزاج تھے ، البتہاللہورسول( عَزَّ  وَجَلَّو صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی شان میں گُستاخی یا شرعی اَحْکام کی ہَٹ دھرمی سے خلاف وَرْزِی کرنے والوں کے حق میں بہت سَخْت تھے ، مگر اس کے باوُجود آپ کی سختی کبھی بھی  بے محل اور نامُناسب نہ ہوتی بلکہ بڑی محتاط اوراِنتہائی سنجیدگی کے دائرے میں رہتی ۔ آپ نے قابلِ اعتراض تحریروں پر سختی کے ساتھ گِرِفْت فرمائی اورایسی باتیں لکھنے والوں کے ساتھ ذرّہ برابر بھی نرمی نہ برتی ، لیکن کسی بھی مقام پر تَہْذِیْب و شائستگی کا دامن نہ چھوڑا ۔ 
	یہی وجہ ہے کہ رسولِ اَکْرَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور اولیائے عظامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامسے بُغْض وعداوت رکھنے کے سبب کُفْروگمراہی کی تنگ و تاریک وادِیوں میں بھٹکنے والے بہت سے اَفْراد آپ کی تحریروں کی برکت سے اپنے بُرے عقائد سے تائب ہوکر سچے پکے عاشِقِ رسول بن گئے ۔ آپ نے ساری عُمْر وہی راستہ اپنائے رکھاجوصحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے اِختیارفرمایاتھاکہ یہ حضراتِ قُدسِیَّہ بھی مؤمنوں کے



________________________________
1 -    حدائق بخشش ، ص۱۶۱ ، ۱۶۲