مُصْطَفٰے کی سازشوں کو بے نقاب کرنے میں کسی کی ملامت کو خاطر میں نہ لاتے ، اپنے محبوبِ مکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شان وعظمت بیان کرنے میں مشغول رہتے ۔ نیز ساری زندگی گُستاخوں کی طرف سے پیارے مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عزّت و عظمت پر کئے جانے والے حملوں کا سختی سے دِفاع کرتے رہے تاکہ وہ غُصّے میں جَل بُھن کر آپ کو بُرا بھلا کہنا اور لکھنا شُروع کردیں ۔ جیساکہ آپ کی تحریر کا خُلاصہ ہے :
اِنْ شَآءَاللہُالْعَزِیْزْ اپنی ذات پر کئے جانے والے حملوں اور تَنقید بھرے جملوں کی طرف کوئی توجّہ نہ دوں گا ، سرکار( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی طرف سے مجھے یہ خدمت سِپُردہے کہ عزّتِ سرکار کی حِمایت ( یعنی دِفاع ) کروں نہ کہ اپنی ، میں تو خُوش ہوں کہ جتنی دیر مجھے گالیاں دیتے ، بُرا کہتے اور مجھ پر بُہتان لگاتے ہیں ، اِتنی دیر مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی( شان میں) بدگوئی اورعیب جُوئی سے غافل رہتے ہیں ، میری آنکھوں کی ٹھنڈک اِس میں ہے کہ میری اورمیرے باپ داداکی عزّت وآبرُو عزّتِ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے ڈھال بنی رہے ۔ (1)
ایک اورمقام پرفرمایا : جس کواللہ( عَزَّ وَجَلَّ) اوررسول( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی شان میں اَدنیٰ سی بھی توہین کرتا پاؤاگرچہ وہ تمہارا کیسا ہی پیارا کیوں نہ ہو ، فوراً اس سے جُدا ہوجاؤ ، جس کو بارگاہِ رسالت میں ذرا بھی گُستاخی کرتا دیکھواگرچہ وہ کیسا ہی عظیم بُزرگ کیوں نہ ہواپنے اندرسے اسے دودھ سے مکّھی کی طرح نکال کر پھینک دو ۔ (2)
وُہی دُھوم اُن کی ہے ما شَآءَ اللہ مِٹ گئے آپ مٹانے والے
________________________________
1 - فتاویٰ رضویہ ، ۱۵ / ٨٨ ، ملخصاً
2 - وصایاشریف ، ص۱۰