اُسے کہتے ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو ۔ ( حالانکہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامتوبِاِذْنِ اللہ ہر چیزکے مالک ومُختارہیں لہٰذا) حضور ِاَقْدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شان میں اِن اَلفاظ کا لکھنا مجھے اچھا معلوم نہیں ہوتا ۔ (1)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اندازہ لگائیے کہ اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی ذاتِ بابرکات میں اَدَب وتعظیم کاکیساجذبہ تھا ، آپ فنافِیاللہاورفنافِی الرَّسول کے اعلیٰ مَنْصَب پر فائزتھے ، اللہعَزَّ وَجَلَّاوراُس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسَلَّمکی مَحَبَّت آپ کے دل پر نَقْش ہوچکی تھی ، جیساکہ آپ نے ایک موقع پرخُودفرمایا : اگرکوئی میرے دل کے دوٹکڑے کردے توایک پرلَاۤاِلٰہَ اِلَّااللہُاوردوسرے پرمُحَمَّدٌرَّسُولُاللہلکھاہواپائے گا ۔ (2)
خُدا ایک پر ہو تو اِک پر محمد اگر قَلب اپنا دو پارہ کروں میں(3)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ناموسِ رسالت پر اپنی ناموس قربان :
اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاپنی ذات کے لئے توسب کچھ برداشت کر سکتے تھے ، لیکن بے چین دِلوں کے چین ، رحمَتِ کونینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شانِ اَقْدس میں ادنیٰ سی بے اَدَبی و گُستاخی بھی برداشت نہیں کرتے تھے ، یہی وجہ ہے کہ پیشہ وَر گُستاخوں کی گُستاخانہ عبارتوں کو دیکھتے ہی آپ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جَھڑی لگ جاتی ، دُشمنانِ
________________________________
1 - امام احمدرضااورعِشْقِ مصطفٰے ، ص۲۹۳ ملخصاً
2 - سوانح امام احمدرضا ، ص۹۶
3 - سامان بخشش ، ص۱۰۳