Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
214 - 541
کرتے تھے ، اگر کسی کی تحریریاگفتگوسے مَعَاذَاللہشانِ رسالت میں بے اَدَبی کا پہلو نکلتا یا کسی لفظ سے شانِ اَقْدس میں کمی کی بُوبھی محسوس ہوتی توفوراًتنبیہ فرماتے نیزاپنی تحریروں اور نعتیہ  شاعری میں بھی اس قِسَم کے الفاظ استعمال کرنے سے بچتے ۔ آئیے !اِس ضمن میں دو ایمان افروز واقعات  سنتے ہیں ۔ چنانچہ
اَسمائے مقدَّسہ کا اَدَب :
	ایک روزسرکارِاعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے بھتیجے مولاناحَسَنَیْن رضاخان صاحب ، اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکوفتوٰی طلب کرنے والوں کی طرف سے پُوچھے گئے کچھ سوالات سُنا رہے تھے اور جوابات  لکھ رہے تھے ۔ ایک کارڈپر لفظ ’’ اللہ  ‘‘ لکھا گیا ۔ اِس پر اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا : یا در کھو کہ میں کبھی تین چیزیں کارڈپرنہیں لکھتا : ( ۱) …اِسْمِ جلالت یعنیاللہ( ۲) …محمداوراحمداور( ۳) …نہ کوئی آیتِ کریمہ ، مثلاًاگررسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّملکھناہے تویوں لکھتاہوں : حُضورِاَقْدسعَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالسَّلَام یا اِسْمِ جلالت یعنی اللہ لکھنا ہو تو اس کی جگہ مولیٰ تعالیٰ لکھتا ہوں ۔ (1) 
خلافِ اَدَب الفاظ نہ لکھے :
ایک بارحضرت مولاناسیِّد شاہ اِسماعیل حَسَن میاںرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے آپ سے ایک دُرودِ پاک لکھوایا ، جس میں حُضورسیِّدِ عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صِفَت کے طورپر لفظ حُسَیْن اورزاہِدبھی تھا ۔ اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے دُرودِ پاک تو لکھ دِیا مگر یہ دو لفظ تحریر نہ فرمائے اور فرمایا کہ لفظ حُسَیْن میں چھوٹا ہونے کے معنیٰ پائے جاتے ہیں اورزاہد



________________________________
1 -     ملفوظات اعلی حضرت ، حصہ۱ ، ص۱۷۳ ، ملخصاً