Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
212 - 541
کی حضورنَبِیِّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماوراُن کی سُنّت سے سچی مَحَبَّت کامُنہ بولتا ثُبُوت تھاکیونکہ جوتاجدارِرسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سُنّت سے مَحَبَّت کرتاہے درحقیقت وہ آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہی سے مَحَبَّت کرتا ہے جیساکہ
سنَّت سے محبت کی فضیلت : 
	 مکی مدنی مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ حقیقت بُنیادہے : مَنْ اَحَبَّ سُنَّتِیْ فَـقَدْاَحَبَّنِیْ وَ مَنْ اَحَبَّنِیْ کَانَ مَعِیَ فِی الْجَنَّۃِیعنی  جس نے میری سنّت سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سے مَحَبَّت کی وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا  ۔ (1) 
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
	اِتباعِ سُنت کی برکت سے اللہتعالیٰ کا قُرب نصیب ہوتا ، دونوں جہاں میں سرفرازی و سُرخروئی ملتی ، عِشقِ رسول میں اِضافہ ہوتا اوردرجات بلند ہوتے ہیں  ۔ 
حدیث شریف کاادب واحترام :
	اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمکی مدنی سُطانصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حقیقی مَحَبَّت کی وجہ سے حدیْثِ پاک کابے اِنتہااَدَب فرماتے تھے ۔ ہمیشہ دَرسِ حدیث اَدَب کے ساتھ دو زانوں بیٹھ کر دِیا کرتے ۔  احادیْثِ کریمہ بغیر وُضو نہ چُھوتے اورنہ پڑھایاکرتے ۔ کُتُبِ احادیث پرکوئی دوسری کتا ب نہ رکھتے ۔  حدیث کی شَرْح و وضاحت کے دوران اگر کوئی شَخْص بات کاٹنے کی کوشش کرتاتوسخت ناراض ہوتے یہاں تک کہ چہرۂ مُبارک غُصّے کی وجہ سے سُرْخ ہو جاتا ۔ حدیْثِ پاک پڑھاتے وقت پاؤں زانوپر رکھ کر بیٹھنے کو ناپسند فرماتے ۔ (2) 



________________________________
1 -    ترمذی ، کتاب العلم ، باب ماجاءفی الاخذبالسنة...الخ ، ۴ /  ۳۰۹ ، حدیث : ۲۶۸۷
2 -    فیضان اعلی حضرت ، ص۲۷۶ ملخصاً