Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
211 - 541
	آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی ذاتِ مُبارکہ سُنَّتِ مُصْطَفٰے کی حقیقی معنیٰ میں آئینہ دارتھی ، آپ کااُٹھنابیٹھنا ، کھاناپینا ، چلناپھرنااوربات چیت کرناسب سنّت کے مُطابق ہوتا تھا ۔  سنّتوں سے مَحَبَّت کا یہ عالَم تھا کہ ایک بارآپ کہیں مَدْعُو( دعوت پربلائے گئے ) تھے ، کھانا لگا دِیا گیا ، سب کوسرکارِاعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے کھاناشُروع فرمانے کااِنتِظارتھا ، آپ نے ککڑیوں کے تھال میں سے ایک قاش اُٹھائی اورتَناوُل فرمائی ، پھردوسری ، پھرتیسری ، اب دیکھادیکھی لوگوں نے بھی ککڑی کے تھال کی طرف ہاتھ بڑھا دیئے ، مگرآپ نے سب کوروک دِیااور فرمایا ، ساری ککڑیاں میں کھاؤں گا ۔ چُنانچہ آپ نے سب ختم کردیں ، حاضِرین مُتَعَجِّب تھے کہ اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہتو بہت کم غِذا اِستِعمال فرمانے والے ہیں ، آج اتنی ساری ککڑیاں کیسے تناوُل فرما گئے ! لوگوں کے اِسْتِفْسار پر فرمایا : میں نے جب پہلی قاش کھائی تو وہ کڑوی تھی اس کے بعد دوسری اور تیسری بھی ، لہٰذا میں نے دوسروں کوروک دِیا کہ ہو سکتا ہے کوئی صاحِب ککڑی مُنہ میں ڈال کر کڑوی پا کر تُھو تُھو کرنا شُروع کردیں ، چُونکہ ککڑی کھانامیرے میٹھے میٹھے آقا ، مدینے والے مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سُنَّتِ مُبارَکہ ہے ، اِس لئے مجھے گوارا نہ ہوا کہ اِس کو کھا کرکوئی تُھو تُھو کرے ۔ (1) 
مجھ کو میٹھے مُصْطَفٰے کی سُنَّتوں سے پیار  ہے 		اِنْ شَآءَاللہ دوجہاں  میں  اپنا بیڑا پار ہے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے عشق نے کڑوی ککڑی کھاناگواراکر لِیا مگر یہ گوارا نہ کِیا کہ کوئی شخص مدنی آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی  پسندیدہ چیزککڑی کھاکرمُنہ بگاڑے یاکسی طرح کی ناپسندیدگی کااِظْہار کرے ، یقیناًیہ آپ 



________________________________
1 -    فیضان سنت ، ص ۴۵۷