Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
210 - 541
	شَیْخِ طریقت ، امیْرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے اپنے رسالے  ’’ تذکرۂ امام احمدرضا“میں اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکاذکرِخیراِن القابات واَلْفاظ کے ساتھ فرمایاہے : اعلیٰ حضرت ، امامِ اَہلسنَّت ، ولِیِ نعمت ، عظیْمُ الْبَرَکت ، عظیْمُ المرتبت ، پروانَۂ شمْعِ رِسَالت ، مُجدِّدِدِین و ملّت ، حامِیِ سُنَّت ، ماحِیِ بدعت ، عالِمِ شریعت ، پیرِ طریقت ، باعِثِ خیرو برکت ۔ 
اُس کی ہستی میں تھا عمل جوہر		سُنَّتِ مصطفٰے کا وہ پیکر
عالِمِ دِین صاحِبِ تقویٰ		واہ کیا بات اعلیٰ حضرت کی(1)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی سیرت ، آپ کے فتاویٰ ، ملفوظات اورنعتیہ شاعری کو پڑھ یا سُن کر ہرذی شُعُوریہ بات بخوبی سمجھ سکتاہے کہ عِشْقِ رسول آپ کی نَس نَس میں سَمایاہواتھا ۔ آپ نے  عُمْر بھرمحبوبِ خداصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعریف و تَوْصِیْف بیان کی ، آپ کی ذاتِ سَتُودہ صفات( یعنی قابلِ تعریف خوبیوں کی مالک ہستی) پراِعْتراضات کرنے والوں کومنہ توڑجوابات دیئے اورقرآنِ پاک کے ترجمے میں بھی شانِ رسالت کا خاص خیال رکھا ۔ یوں سمجھئے کہ عِشْقِ مُصْطَفٰے کی  شمع لوگوں کے دلوں میں روشن کرناآپ کا بُنیادی مَقْصَد تھا ۔ آپ کے نَعْتِیہ دیوان ”حدائِقِ بخشش شریف“ کا ہر ہر شعر آپ کے عِشْقِ رسول کی عکّاسی کرتا نظرآتاہے ۔ آپ کے عِشْقِ رسول کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ آپ نے نہ صرف اپنے دونوں بیٹوں کے نام بلکہ اپنے بھتیجوں تک کے نام ، نامِ اَقْدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر رکھے ۔ (2) 



________________________________
1 -   وسائل بخشش مرمم ، ص۵۷۶
2 -    ملفوظات اعلیٰ حضرت ، حصہ اول ، ص۷۳ملخصاً