جب یہ میلان قوی اور پختہ ( یعنی بہت شدید ) ہوجائے تو اُسے ”عشق“ کہتے ہیں ۔ (1)
یعنی کسی پسندیدہ چیز سے تَعَلُّق قائم ہوجانا مَحَبَّت کہلاتا ہے اور جب وہی تعلق شدت اختیار کرجائے تو اسے عشق کہتے ہیں ۔
اللہ ورسول سے عشق ومحبت کامطلب :
اللہعَزَّ وَجَلَّاوراس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے مَحَبَّت و عشق کامطلب یہ ہے کہ ان کی اطاعت وفرمانبرداری والے کام کئے جائیں ۔
محبت کی علامت :
حضرت سیِّدُناسہل بنعبْدُاللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : اللہعَزَّ وَجَلَّسے مَحَبَّت کی علامت قرآن سے مَحَبَّت کرناہے اورمحبَّتِ قرآن کی علامت حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مَحَبَّت کرناہے اورمحبَّتِ رسول کی علامت ان کی سُنّت سے مَحَبَّت کرناہے اوران سب سے مَحَبَّت کی علامت آخرت سے مَحَبَّت کرناہے اورآخرت سے مَحَبَّت کی علامت اپنے آپ سے محبت کرنا ہے اور خود سے محبت کی علامت دنیا سے بغض رکھنا ہے اور دنیا سے بغض کی علامت اس سے بقَدْرِضرورت کے علاوہ کچھ نہ لینا ہے ۔ (2)
عشْقِ رسول کے فوائد :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہواکہ سچاعاشِقِ رسول وہی ہے جو دنیا کی مَحَبَّت سے پیچھاچھڑاکراللہعَزَّ وَجَلَّاوراس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اِطاعت میں زندگی
________________________________
1 - احیاء العلوم ، کتاب المحبة والشوق...الخ ، بیان حقیقة المحبة...الخ ، ۵ / ۶
2 - تفسیر قرطبی ، پ۳ ، الٰ عمران ، تحت الایة : ۳۱ ، ۴ / ۴۷