Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
206 - 541
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے عِشْقِ رسول  کواپنی زندگی کاسرمایَہ اورذکرِ رسول کوگویا اپنامقصدبنا رکھا تھا ، ساری عُمْر اپنے محبوب آقا ، مکی مدنی مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شان وعظمت میں نعتیں لکھ لکھ کرلوگوں کو عِشْقِ رسول میں گرماتے رہے اوراُن کے دِل میں عِشْقِ حبیب کے دِیے جلاتے رہے ۔ نیز اپنی زبان و قلم کے ذریعے تاجدارِرسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عزّت ونامُوس کی حفاظت کرتے رہے ، چونکہ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہعاشِقِ صادِق تھے لہٰذادِیارِحبیب کی حاضری کاشوق سینے میں موجیں مارتا رہا اور جب آپ کو اپنے کریم آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دربار میں حاضری کی سعادت ملی توپیارے آقا ، مکی مدنی مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شان وعظمت میں دل کی گہرائیوں سے نکلے ہوئے اورعِشْقِ رسول میں ڈُوبے ہوئے اَشعاراُس پاک بارگاہ میں پیش کردئیے ۔ رِقّت وسوزسے بھرپوراَشْعارکودَرَجَۂ قبولیّت حاصل ہوا ، غیب دان آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رحمت کو جوش آیا اورآپ نے اپنے دِیدار کا شربت پِلا کر گویااعلیٰ حضرت کے عاشِقِ صادق ہونے پر اپنی مُہر لگادی  ۔ 
جو ہے اللہ کا ولی بے شک		عاشِقِ صادِقِ نبی بے شک
غوثِ اعظم کا جو ہے متوالا		واہ کیا بات اعلیٰ حضرت کی(1)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
عشق اورمَحَبَّت کسے کہتے ہیں؟
	حُجَّۃُالْاِسلامحضرت سیِّدُنااِمام محمدبن محمدغزالیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمَحَبَّت کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں : طبیعت کاکسی لذیذشے کی طرف مائل ہوجانا”مَحَبَّت“کہلاتاہے اور



________________________________
1 -   وسائل بخشش مرمم ، ص۵۷۶