Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
205 - 541
وہ سُوئے لالہ زار پھرتے ہیں		تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں(1)
	شعرکی وضاحت : اے بہارجُھوم جاکہ تجھ پربہاروں کی بہارآنے والی ہے ۔ وہ دیکھ! مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمسُوئے لالہ زاریعنی جانِب گُلزارتشریف لارہے ہیں ۔ 
	مَقْطَع یعنی آخری شعرمیں بارگاہِ رسالت میں اپنی عاجِزی اور بے مایَگی ( بے  ۔ ما ۔ یَہ ۔ گی یعنی مسکینی) کا نقشہ  کچھ یوں کھینچا ہے کہ
کوئی کیوں پوچھے تیری بات رضاؔ		تجھ سے شَیْدا ہزار پھرتے ہیں(2)
	اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے مِصْرَعِ ثانی میں بطورِعاجزی اپنے لئے ”کُتّے “ کا لفظ اِستعمال فرمایاہے ، مگر اَدَباًیہاں”شَیْدا“لکھ دِیاہے ( جس کامطلب ہے عاشق)  ۔ 
	شعرکی وضاحت : اِس مَقْطَع میں عاشِقِ ماہِ رِسالت ، سرکارِ اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکمالِ انکساری کااِظہارکرتے ہوئے اپنے آپ سے فرماتے ہیں : اے احمدرضا!تُوکیااور تیری حقیقت کیا!تجھ جیسے توہزاروں سگانِ مدینہ( یعنی مدینے کے کُتّے ) گلیوں میں دیوانہ وار پھر رہے ہیں ۔ 
	یہ غزل عَرْض کرکے دِیدارکے اِنتظارمیں مُؤدَّب( یعنی بااَدَب) بیٹھے ہوئے تھے کہ قسمت انگڑائی لے کرجاگ اُٹھی اورچشمانِ سر( یعنی سرکی آنکھوں) سے بیداری میں زیارتِ محبوبِ باری سے مُشرَّف ہوئے ۔ (3) 
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد



________________________________
1 -   حدائق بخشش ، ص۹۹
2 -   حدائق بخشش ، ص۱۰۰
3 -    حیات اعلی حضرت ، ۱ /  ۹۲