Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
204 - 541
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
	اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا رَسُولَ اللہ   	وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا حَبِیْبَ اللہ
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا نَبِیَّ اللہ   	وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا نُوْرَ اللہ
درود شریف کی فضیلت : 
	سرکارِنامدار ، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ خُوشبودارہے : جب جُمعرات کادن آتاہے ، اللہعَزَّ  وَجَلَّفِرِشتوں کوبھیجتاہے ، جن کے پاس چاندی کے کاغذاور سونے کے قلم ہوتے ہیں ، وہ جُمعرات اورشَبِ جُمُعہ مجھ پرکثرت سے دُرُودِ پاک پڑھنے والوں کے نام لکھتے ہیں ۔ (1) 
ذاتِ والا پہ بار بار دُرود		بار بار اور بے شُمار دُرود
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اَعلٰی حضرت کا عِشْقِ رسول :
	اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہجب دُوسری بارحج کے لئے حاضِرہوئے تومدینہ منورہ میں حضورنَبِیِّ رَحمت ، شفیْعِ اُمّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زِیارت کی آرزولئے روضَۂ اَطہرکے سامنے دیرتک صلوٰۃ وسلام پڑھتے رہے ، مگرپہلی رات قسمت میں یہ سَعادت نہ تھی ۔ اِس موقع پروہ معروف نعتیہ غَزل لکھی ، جس کے مَطْلَع( یعنی پہلے شعر) میں دامَن رحمت سے وابستگی کی اُمّید دِکھائی ہے : 



________________________________
1 -   مسندفردوس ، ۱ /  ۱۱۱ ، حدیث : ۶۸۵