میں مزاحِیہ چُٹکلے اورفِلمی غَزلیں سُنانا ، گانے گانا ، بے ڈھنگے اندازمیں ناچ دکھانااورطرح طرح کے نخروں سے لوگوں کو ہنسانامیرا مَحبُوب مَشغَلہ تھا ۔ اسکول کا زمانہ تھا ، ایک باعِمامہ اسلامی بھائی اکثر بڑے بھائی جان سے ملنے آیاکرتے تھے ۔ ایک دن بھائی جان نے میرا تعارُف کروایاتواُنہوں نے مجھے تبلیْغِ قرآن وسنّت کی عالمگیرغَیرسیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وارسنّتوں بھر ے اجتماع کی دعوت پیش کی ۔ میں اُن کی دعوت پرجُمعرات کوسنّتوں بھرے اِجتِماع میں جاپہنچا ، مجھے بَہُت اچّھا لگا ۔ یوں میں نے پابندی سے جاناشروع کردیااور دیگرکلاس فیلوزکوبھی دعوت پیش کی جس پروہ بھی آنے لگے ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ! میں نے نَمازوں کی پابندی شروع کردی ۔ آہِستہ آہِستہ عِمامہ شریف بھی سج گیا ، جس پر گھر کے بعض افراد نے سختی کے ساتھ مخالَفت کی حتّٰی کہ بَسا اَوقاتمَعَاذَاللہ عِمامہ شریف کھینچ کراُتاردیاجاتا ۔ درس دینے سے روکاجاتا ، زُلفیں رکھیں توگھروالوں نے زبردستی کٹوادیں ، داڑھی ابھی نکلی نہیں تھی ، مگر سجانے کی نیّت کر لی تھی ۔ مَکْتَبَۃُ الْمَدِیْنہسے جاری ہونے والے سنّتوں بھرے بَیانات کی کیسٹیں سُننے سے ڈھارس بندھی اورحوصلہ ملتاچلاگیا ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ!آہِستہ آہِستہ گھر میں بھی مَدَنی ماحول بن گیا ، وہ گھر والے جو سنّتوں بھرے اِجتِماع اور مَدَنی قافلے میں سَفَر کی اِجازَت نہیں دیتے تھے ، انہوں نے مجھے یکمُشت 12 ماہ کے مَدَنی قافلے میں سَفَر کی اِجازَت دے دی ۔ گھر میں اسلامی بہنوں کااِجتِماع شُرُوع ہوگیااور والِد صاحب نے بھی داڑھی سجالی ۔ (1)
گرچہ فنکار ہو ، قافلے میں چلو گو گلو کار ہو ، قافلے میں چلو
خُلد در کار ہو ، قافلے میں چلو فضْلِ غفّار ہو ، قافلے میں چلو
________________________________
1 - غیبت کی تباہ کاریاں ، ص۴۰۷ ، ملخصاً