Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
196 - 541
 الْمَدِیْنہکی مَطبُوعہ کُتُب ورَسائِل تقسیم کرکے بھی بے شُمارثَوابِ جارِیہ صاحِبِ مَزارکی خدمت میں پیش کِیا جاسکتا ہے  ۔ (1) 
کھاناگِر جائے تو؟
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یادرکھئے !نہ صرف مَزارشریف میں لنگرتقسیم کرتے ہوئے بلکہ ہرجگہ کھاناکھاتے اورکھلاتے ہوئے اِحتِیاط کرنی چاہیے کہ کہیں کھانے کے دانے وغیرہ ضائع نہ ہوجائیں ۔ اگرکہیں کوئی لُقْمہ گِرجائے اورتنفیرِعوام( لوگوں کی نفرت) کا اندیشہ بھی نہ ہواورلقمہ ایساہوجس کاصاف کرناممکن ہوتو لوگوں کی پروا کئے بِغَیربِلاجھجک اُٹھاکر ( صاف کرکے ) کھالیجئے ، اِنْ شَآءَاللہعَزَّ  وَجَلَّ اس کی برکتیں نصیب ہوں گی ۔ 
روٹی وغیرہ کااحترام کرو : 
	اُمّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائِشہ صِدِّیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں : سلطانِ دوجہان ، شَہَنْشاہِ کَون ومَکان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممَکانِ عالی شان میں تشریف لائے ، روٹی کا ٹکڑا پڑا دیکھاتواُس کولے کر پُونچھاپھرکھالِیااورارشادفرمایا : عائِشہ !اچھّی چیز کا اِحْتِرام کرو کہ یہ چیز ( یعنی روٹی ) جب کِسی قَوم سے بھاگی ہے تولَوٹ کر نہیں آئی ۔ (2) 
کھاناضائع مت کیجئے :
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آج کل ہرایک بے بَرکتی اورتنگدستی کارونارورہا ہے ۔  کیا بعید کہ روٹی کا اِحْتِرام نہ کرنے کی یہ سَزا ہو ۔  آج شاید ہی کوئی مُسَلمان ایسا ہوجو روٹی



________________________________
1 -    مزاراتِ اولیاکی حکایات ، ص۱۷
2 -    ابن ماجہ ، کتاب الاطعمة ، باب النھی عن القاء الطعام ، ۴ / ۴۹ ، حدیث : ۳۳۵۳