میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!عُمُوماًدیکھاجاتا ہے کہ مَزاراتِ اَوْلیاپرنِیازبھی تقسیم کی جاتی ہے ، یہ بھی صاحِبِ مَزار کو ایصالِ ثواب کرنے کاایک طریقہ ہے ۔ یقیناً اللہعَزَّ وَجَلَّ کی رِضاحاصِل کرنے کے لیے نِیازوغیرہ تقسیم کرنے کی بڑی فَضِیلت ہے ۔ چنانچہ
لنگروغیرہ بانٹناباعث اجرہے :
اَعلیٰ حضرت ، امام احمدرضاخانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفتاوی رضویہ ، جلد24 ، صفحہ521 پر لکھتے ہیں : کھاناکھلانا ، لنگربانٹنابھی مَنْدُوب( یعنی اچھاعمل) وباعِثِ اَجْرہے ، حدیث میں ہے : رسولُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں : اِنَّاللہَ یُبَاہِیْ مَلٰئِکَتَہٗ بِالَّذِیْنَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ مِنْ عَبِیْدِہٖیعنیاللہعَزَّ وَجَلَّاپنے اُن بندوں کے ساتھ جو لوگوں کوکھانا کھلاتے ہیں ، فِرِشتوں پر ُمباہات( یعنی فَخْر) فرماتاہے ۔ (1)
نیاز تقسیم کرنے کی اِحتِیاطیں :
لیکن لنگرتقسیم کرتے ہوئے اِس بات کا خَیال ضَرور رکھئے کہ کسی بھی طرح لنگر کی بے حُرمَتی وبے ادبی نہ ہو ، نہ پاؤں میں آئے ، نہ مَزار شریف کا فَرش آلودہ ہو ، دھکم پِیل سے بچنے کے لئے اسلامی بھائیوں کوبٹھاکریاقِطاربناکرلنگرتقسیم کِیاجائے ، آنے والے زائرین کے حُقُوق کا خَیال رکھا جائے کہ لنگر تقسیم کرنے کی وجہ سے انہیں حاضِری دینے میں کسی قِسْم کی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے اور خاص طور پر مَزار شریف کی تعظیم کا مکمل اِہتِمام کِیا جائے ۔ ایسانہ ہوکہ ایک طرف تولنگرتقسیم کرکے اَجْروثَواب کے مُسْتَحِقبنیں اوردوسری طرف مَزارشریف کی بے اَدَبی کے مُرتَکِب ہوجائیں ۔ کھانے کی نِیازکے ساتھ ساتھمَکْتَبَۃُ
________________________________
1 - الترغیب والترھیب ، کتاب الصدقات ، الترغیب فی اطعام الطعام الخ ، ۱ / ۴۴۷ ، حدیث : ۱۴۱۶