Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
194 - 541
مَزارات پرحاضری کے آداب : 
	( اگرکوئی شَخْصولیُّ اللّٰہکے مَزار شریف یا) کسی بھی مُسَلمان کی قَبْر کی زِیارَت کو جانا چاہے تو مُستَحَب یہ ہے کہ پہلے اپنے مَکان پر( غَیر مکروہ وَقْت میں) دو رَکْعَت نَفْل پڑھے ، ہر رَکْعَت میںسُوْرَۃُالْفَاتِحَہکے بعدایک باراٰیَۃُ الْکُرْسِیاورتین بارسُوْرَۃُ الْاِخْلَاصپڑھے اوراس نَمازکاثَواب صاحِبِ قَبْرکوپہنچائے ، اللہعَزَّ  وَجَلَّاُس فَوت شُدہ بندے کی  قَبْرمیں نُورپیداکرے گااوراِس( ثَواب پہنچانے والے ) شَخْص کوبَہُت زِیادہ ثَواب عَطافرمائے گا ۔ (1) پھراچھی اچھی نیتیں کرنے کے بعدمَزارات کی طرف روانہ ہواور( زائریعنی زِیارت کرنے والے کو چاہیے کہ اولیائے کِرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکے ) مَزاراتِ طیِّبات پرحاضِرہونے میں پائنتی( پا ۔ ئِنْ  ۔ تی ۔ یعنی قدموں) کی طرف سے جائے اورکم ازکم چارہاتھ کے فاصِلہ پرمُواجَہہ میں( یعنی چِہرے کے سامنے ) کھڑاہواورمُتَوَسِّط( یعنی درمِیانی) آواز میں( اِس طرح) سَلام عَرْض کرے : اَلسّلَامُ عَلَیْکَ یَاسَیِّدِیْ وَرَحمَۃُاللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ ، پھر”دُرُودِغَوْثیہ“تین بار ، اَلْحَمْدشریف ایک بار ، اٰیَۃُ الْکُرْسِی ایک بار ، سُوْرَۃُ الْاِخْلَاص سات بار ، پھر”دُرُوْدِغَوْثیہ“سات باراوروَقْت فُرْصت دے تو سُوْرَۂ یٰسٓاورسورۂ  مُلکبھی پڑھ کراللہعَزَّ  وَجَلَّسے دُعاکرے کہ الٰہی!اِس قِراءَت پرمجھے اِتناثَواب دے جوتیرے کرم کے قابِل ہے ، نہ اُتناجومیرے عَمَل کے قابِل ہے اوراِسے میری طرف سے اِس بندۂ مَقبول کونَذرپہنچا ۔ پھراپنا جومطلب جائز( اور) شرعِی ہو اُس کے لیے دُعاکرے اورصاحبِ مَزار کی رُوح کواللہعَزَّ  وَجَلَّکی بارگاہ میں اپنا وسیلہ قَراردے ، پھر اُسی طرح سَلام کر کے واپَس آئے ۔ (2) 



________________________________
1 -    فتاوی هندیة ، کتاب الکراهیة ، الباب السادس عشر فی زیارة القبور...الخ ، ۵ / ۳۵۰
2 -   ماخوذازفتاوی رضویہ ، ۹ /  ۵۲۲