ہوتے ہیں بلکہ زائِرِیْن( اپنے مَزارات کی زِیارَت کرنے والوں ) کی ہِدایت ومددبھی فرماتے ہیں ۔
حضرت سیِّدُناعلامہ اسماعیل حَقّیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : انبیا ، اَولِیااورشُہَداکے اَجسام قَبروں میں بھی نہ تومتغیرہوتے ہیں اورنہ ہی بوسِیدہ کیونکہاللہعَزَّ وَجَلَّنے اُن کے جِسموں کو اِس خَرابی سے جو گوشت کے گَلْنے سَڑنے سے پیدا ہوتی ہے ، مَحْفُوظ رکھا ہے ۔ (1)
شَیْخ عبدُالحق مُحدّثِ دِہلویرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : اللہعَزَّ وَجَلَّکے اَولیااِس دارِ فانی سے دارِ بَقا کی طرف کُوچ کرگئے ہیں اور اپنے پَرْوَرْدْگار کے پاس زِندہ ہیں اُنہیں رِزْق دِیاجاتا ہے ، وہ خُوش حال ہیں اور لوگوں کو اس کا شُعُور نہیں ۔ (2)
حضرت علّامہ علی قاریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : اَوْلِیاءُاللہکی دونوں حالتوں( زِندَگی و مَوت) میں اَصْلاً( کوئی ) فَرْق نہیں ، اِسی لیے کہا گیا ہے کہ وہ مرتے نہیں بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھرتشریف لے جاتے ہیں ۔ (3)
کون کہتا ہے ولی سَب مَر گئے ؟ قَیْد سے چُھوٹے وہ اپنے گھر گئے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ان جَلِیلُ الْقَدْرائمَۂ کِرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکی تَصْریحات سے یہ مَعلُوم ہواکہ انبیائے کِرامعَلَیْہِمُ السَّلَام ، شُہَدائے عُظام اوراولیائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامسب اپنے اپنے مَزارات میں زِندہ ہوتے ہیں اورتَصرُّف بھی فرماتے ہیں ۔ اسی لیے صرف عوام ہی نہیں بلکہ بڑے بڑے عُلَماواکابرین کایہ مَعمُول رہاہے کہ وہ اپنی مُشکلِات کے حَل کے لیے مَزاراتِ مُقَدَّسَہ پرحاضِری دِیاکرتے تھے ۔ آئیے اِس بارے میں تین
________________________________
1 - روح البیان ، پ۱۰ ، التوبة ، تحت الایة : ۴۱ ، ۳ / ۴۳۹
2 - اشعة اللمعات ، کتاب الجھاد ، باب حکم الاسراء ، ۳ / ۴۲۳
3 - مرقاة المفاتیح ، کتاب الصلاة ، باب الجمعة ، ۳ / ۴۵۹ ، تحت الحدیث : ۱۳۶۶