(2)…آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ایک بارمجھے ایک مُشْکِل دَرپیش ہوئی ، میں نے اُس کے حل کی کوشِش کی مگر کامیاب نہ ہوا ، اِس سے قَبْل بھی مجھ پر ایسی ہی مُشْکِل آئی تھی تو میں نے حضرت شیخ ابویزیدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے مَزارشَریف پرحاضِری دی تھی اور میری وہ مُشْکِل آسان ہو گئی تھی ۔ اس مرتبہ بھی میں نے اِرادَہ کِیا کہ وہاں حاضِری دُوں ۔ چنانچہ اپنی مشکل کے حل کے لیے تین ماہ تک اُن کے مَزار مُبارَک پر چلّہ کَشی کی ۔ (1)
(3)…حُضُورداتاگنج بخشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہحضرت سیِّدُنااَبُوالعباس قاسم بن مَہْدی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے بارے میں فرماتے ہیں کہ آج تک ان کامَزار”مَرْوَ“( تُرکمانستان) میں مَوْجُودہے اور بہت مَشہور و مَعْروف ہے ، لوگ وہاں مُرادیں مانگنے جاتے ہیں اوربڑی بڑی مُشکِلات حَل کرنے کے لیے ان سے طالِبِ اِمداد ہوتے ہیں تو اُن کی اِمداد کی جاتی ہے ، یہ بات بہت مُجَرَّب ( یعنی کئی بار کی آزمائی ہوئی) ہے ۔ (2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اَوْلیائے کِرام حَیات ہیں :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سیِّدُناداتاعلی ہجویری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیکابھی یہ عقیدہ تھا کہ نہ صرف مَزارات پر جانا باعِثِ برکت ہے بلکہ وہاں مُشکِلات بھی حَل ہوتی ہیں اور یہ سب صاحِبِ مَزار ہی کا فَیْضان ہوتاہے ۔ مُمکِن ہے کسی کو یہ وَسْوَسہ آئے کہ اَوْلِیائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکافَیض کیسے مِل سکتا ہے ؟ کیونکہ وہ تو وَفات پا چکے ہوتے ہیں ۔ تویاد رکھئے ! اولیائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامربِّ کائناتعَزَّ وَجَلَّکی عِنایات سے مَزارات میں نہ صرف حَیات
________________________________
1 - کشف المحجوب ، باب الملامة ، ص۶۵
2 - کشف المحجوب ، باب فی ذکرائمتھم من...الخ ، ص ۱۶۵