میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اَوْلِیاءُاللہکے مَزارات پرحاضِری کی بَرکت سے دُعائیں قَبول ہوتی ہیں ، مُشکلِات ومَصائِب سے نَجات ملتی ہے ، خاص اِس نَظَریے سے اولیائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکے مَزارات پرجانابھی ہمارے اَسلاف کاطریقہ رہاہے ۔ چُنانچہ حضرت سیِّدُنا داتا گَنْج بَخْش علی ہَجْویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکابھی یہ مَعمُول تھاکہ آپ بُزرگانِ دِینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنکے مَزارات پرحاضِری دیتے تھے اورمَزارات پرحاضِری کے سلسلے میں آپ نے اپنے کئی واقِعات اپنی مَشہورومَعرُوف کِتاب”کَشْفُ الْمَحْجُوب“میں دَرْج کیے ہیں ۔ آئیے اُن میں سے چندواقعات سنتے ہیں :
داتا صاحب اور حاضریِ مزارات :
(1)…حضرت سیِّدُناداتا گَنْج بَخْش علی ہَجْویریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ میں اىک روزسفرکرتاہواملکِ شام مىں مُؤذنِ رسول حضرت سیِّدُنا بلال حبشیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے مزارشریف پرحاضرہوا ، وہاں میری آنکھ لگ گئی اورمیں نے خودکومَکَّۂ مُعظَّمہمیں پایا ۔ کیادیکھتاہوں کہ سرکارِدوعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقبیلہ بنى شىبہ کے دروازے پرموجود ہیں اورایک عمر رسىدہ شخص کو کسی چھوٹے بچے کی طرح اُٹھائے ہوئے ہیں ، مىں فرطِ مَحَبَّت سے بے قرارہوکرآپ کى طرف دوڑا اور آپ کے مبارک قدموں کو بوسہ دىا ، دل ہی دل میں اس بات پربڑاحىران بھی تھاکہ ىہ ضعىف شخص کون ہے ؟اتنے میںاللہعَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب ، دانائے غُیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقوتِ باطنى اورعِلمِ غیب کے ذریعے مىری حیرت و اِسْتِعْجاب( تعجب) کی کیفیت جان گئے اور مجھ سے مخاطب ہوکرارشادفرماىا : ىہ ابوحنیفہ ہیں اور تمہارے امام ہىں ۔ (1)
________________________________
1 - کشف المحجوب ، باب فی ذکرائمتھم من...الخ ، ص۱۰۱