کے ایسے دَریابَہائے کہ وہ شہرجَوپہلے کُفر اور شِرْک کے اندھیروں میں ڈُوباہواتھااب قَلْعۂ اِسلام بن گیا ، آپ کے حُسْنِ اَخْلاق ، حُسْنِ کِردار اورنَرْم گُفْتار سے کئی دلوں میں آپ کی مَحَبَّت راسخ ہوگئی ۔ مرکزالاولیاء ( لاہور) میں آپ کے قیام کی مُدَّت تقریباً30 سال ہے ۔ (1)
اس سارے عَرْصے میں آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہشَب وروزدِین کی تَبلیغ میں مَشغُول رہے ، آپ کی بے داغ سِیرت ، دِلکَش گُفتُگو ، پُرنُورشَخْصِیَت اوردِلوں میں اُترجانے والے ارشاداتِ عالِیہ لوگوں کوکفروضَلالَت( گمراہی) کی دَلدَل سے نِکال کرہِدایَت کی راہ پرگامزَن کرتے رہے ۔ لاہورمیں آپ نے اپنی قِیام گاہ کے پاس ہی ایک جگہ مَسجِدکاسنگِ بنیادرکھااوراس مسجدکی تعمیر کے وَقْت آپ نے خودمزدوروں کی طرح کام کیااوربڑی مَحَبَّت اورجَذبے سے اس کی تعمیر میں پیش پیش رہے ، شہرلاہورکی یہ پہلی مسجدتھی جوایکوَلیُّ اللہکے ہاتھوں تعمیرہوئی ۔ (2)
حضرت سیِّدُناداتاگَنْج بَخْشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے پوری زندگی خُوب مَحَبَّت ولگن سے خدمَتِ دین کا کام سرانجام دیا ، دُکھی اِنْسانِیَّت کو اَمْن و سُکُون کا پَیغام دیا اور اپنے مُرِیدین ومُحِبِّین کی دِینی ودُنیاوی حاجَتوں کو پُورا فرمایا ۔ آج بھی آپ اپنے مَزارِ فائض ُالاَنْوار سے اپنے عقیدت مندوں کی حاجَت رَوائی فرماتے ، ان کی پریشانیاں حل فرماتے اوراپنے رُوحانی فیضان سے جسے چاہتے ہیں مالامال کرتے ہیں ۔
میں ہوں عصیاں کا مریض اور تم طبیبِ عاصِیاں
ہو عطا مجھ کو گناہوں کی دوا داتا پیا(3)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
________________________________
1 - ماخوذاز اللہکے خاص بندے ، ص۴۶۸
2 - ماخوذاز اللہکے خاص بندے ، ص ۴۶۹
3 - وسائل بخشش مرمم ، ص۵۳۴