علمِ دِین کے حُصُول کا شوق :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھاآپ نے کہ داتا گَنْج بَخْشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو عِلمِ دین حاصِل کرنے کا کس قَدَر شوق تھا؟عِلمِ دین کے حُصُول کی خاطِرآپ نے عِراق ، شام اورحجازِ مُقدَّس سَمیت10سے زا ئدمَمالِک کاسَفَرکِیااوراِس راہِ پُرخارمیں کئی ناخُوشگَوار واقِعات سے بھی ہَمکَنار ہوئے مگر صَبْرو رِضاکے پَیکر اوررَبّ تعالیٰ کے شُکْرگُزاررہے ۔ اب ذراغَور کیجئے کہ ایک طرف توہمارے اَسلاف کا یہ حال تھا کہ حُصُولِ عِلمِ دِین کے ذَرائِع اِنتہِائی دُشوارہونے کے باوُجُودیہ مُبارَک ہستیاں تَنْ دَہی( محنت ولگن) سے عِلمِ دین حاصِل کرتے رہے اور لوگوں میں نیکی کی دَعوَت عام کرتے رہے ، اس کے بر عکس ہمارا معاملہ یہ ہے کہ آج اِس تَرَقِّی یافتہ دور میں جبکہ عِلمِ دین حاصِل کرنا اِنتِہائی آسان ہو چکا ہے ، تمام تر سَہُولَتوں اورآسائشوں کے باوُجُود بھی ہم عِلمِ دین سے دُور ہیں حتّٰی کہ فَرْض عُلُوم سیکھنے کی بھی فُرصَت نہیں ۔ ہم خُودکواوراپنی اَولاد کو دُنْیَوی فَوائِددلوانے کے لیے عُلُوم وفُنُون تو سِکھاتے ہیں تاکہ اَعلیٰ ڈِگری حاصِل کرکے ہمارا نام رَوشَن ہونے کے ساتھ ساتھ اولادکاعارضی مُستقبل بھی روشن ہو مگر اَفسوس !ہمیں اپنی آخِرت سَنوارنے کی بالکل فِکْر نہیں ۔ یادرکھئے !عِلمِ دین سیکھنا ہر مُسَلمان مَرد وعَوْرت پر فَرْض ہے ۔
کتنا عِلم سیکھنا فَرْض ہے ؟
حَدیْثِ پاک میں ہے : طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِـمٍیعنی عِلم کاطَلَب کرناہر مُسَلمان پرفَرْض ہے ۔ (1)
________________________________
1 - ابن ماجہ ، کتاب السنة ، باب فضل العلماء والحث علی طلب العلم ، ۱ / ۱۴۶ ، حدیث : ۲۲۴