آپ کا تَعارُف :
آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکانام”عَلی“والِدماجد کانام”عُثمان“ہے ۔ آپ کاسِلسِلۂ نَسَب چھ واسِطوں سے سَیِّدُالشُّہَداحضرت سیِّدُناامام حَسَن مجتبیٰرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے جاملتاہے ۔ آپ کی کُنْیَت”اَبُوالْحَسَن“ہے ۔ (1) جبکہ مَشہورومَعرُوف لَقَب”گَنْج بَخْش“ہے ۔ اِس لَقَب کی وَجہِ تَسْمِیَہ( نام رکھنے کی وجہ) کچھ یُوں ہے کہ حضرت خواجَۂ خواجگان ، سیِّدُنامُعِینُ الدِّین چِشتی اَجْمیری سَنْجَریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہجوکچھ عَرْصے تک آپ کے مَزارِ فائِضُ الاَنْوارپَرٹھہرے رہے اورحضرت داتاگَنْج بَخْش علی ہجویریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے فُیُوضِ باطِنی سے مالامال ہوکرجب اَلْوَداعی فاتِحہ کے لیے حاضِرہُوئے توزَبانِ مُبارَک پربے ساختہ یہ شِعْر آگیا :
گَنْج بَخْشِ فَیْضِ عالَم ، مَظْہَرِ نُورِ خُدا ناقِصاں را پِیْرِ کامِل ، کامِلاں را رَہْنُما(2)
سُلطانُ الہِنْدخواجہ غَریب نَوازرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی زَبانِ مُبارَک سے نِکلا ہوا لَقَب”گَنْج بَخْش“آج پورے بَرِّ صَغیر میں گُونج رہا ہے ۔ یہاں تک کہ بَعْض لوگ تو آپ کے اِسْمِ مُبارَک ( نام) سے بھی ناواقِف ہوتے ہیں اورمَحْض”داتاگَنْج بَخْش“کے لَقَب سے ہی یادکرتے ہیں ۔ (3)
داتاگَنْج بَخْشرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکی وِلادَتِ باسَعادَت کم وبیش 400 ھ میں غَزنی شہرمیں ہُوئی ۔ کچھ عَرصے بعدآپ کاخاندان مَحَلہ ہَجْویرمُنْتَقِلہوگیا ، اِسی نِسبَت سے ہَجْویری کہلاتے ہیں ۔
غم مجھے میٹھے مدینے کا عطا کر دو شہا میرا سینہ بھی مدینہ دو بنا داتا پیا(4)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
________________________________
1 - ماخوذازبزرگان لاہور ، ص۲۲۲ ۔ سفینۃ الاولیاء ، حضرت شیخ پیرعلی ہجویری ، ص۱۶۴
2 - ماخوذازمحفل اولیاء ، ص۳۸۸
3 - معارف ہجویریہ ، ۲ / ۵۰
4 - وسائل بخشش مرمم ، ص۵۳۳